مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 352
352 نوجوانان جماعت سے دین کے لئے زندگیاں وقف کرنے کا مطالبہ → میں نے آج عید کے خطبہ میں اس امر کی طرف جماعت کو توجہ دلائی تھی کہ موجودہ جنگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کا قطعی فیصلہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی دنیوی طاقتوں کو جو اسلام سے اختلاف رکھتی ہیں، تلوار سے مٹانا ظاہری سامانوں کے لحاظ سے ناممکن ہے لیکن تبلیغ اور روحانیت سے مٹانانہ صرف ممکن ہی ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے موعود بھی ہے۔اس زمانہ میں اسلحہ جنگ کی کثرت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ تلوار جہانتک اسلام کی ترقی اور غلبہ کا تعلق ہے قطعی طور پر ناکام رہے گی اور تبلیغ کا میاب ہوگی۔اور ہم دیکھتے ہیں کہ ظاہری علامتیں بھی ایسی ہیں جو اسی بات پر دلالت کرتی ہیں کیونکہ دشمنان اسلام جہاں ہتھیاروں اور مادی طاقتوں پر زیادہ سے زیادہ بھر وسہ کر رہے ہیں وہاں ان میں مذہبی یقین کم سے کم ہو تا چلا جاتا ہے۔اگر ایک طرف مادی طاقت پر بھر وسہ بڑھتا جاتا ہے تو دوسری طرف روحانی طاقت پر بھروسہ کم ہو تا جاتا ہے اور ہوشیار مخالف کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ مخالف کے قلعہ پر اس جگہ سے حملہ کرتا ہے جہاں دیوار سب سے زیادہ کمزور ہو۔اس وقت اسلام کے دشمنوں کے قلعہ کی مادی دیوار میں زیادہ سے زیادہ مضبوط ہیں۔البتہ روحانی دیوار میں خطر ناک رخنے ہیں اور کسی نادان کا ہی یہ کام ہو سکتا ہے کہ مضبوط چٹانوں اور دیواروں کے ساتھ سر پھوڑ تا رہے اور جہاں سے دیوار گری ہوئی ہو وہاں سے اندر داخل نہ ہو۔آج دشمن کا قلعہ مذہبی نقطہ نگاہ سے گر رہا ہے اور اس جہت سے بہت کمزور ہو چکا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ الہی منشاء ازل سے یہی تھا کہ اس زمانہ میں دونوں طاقتوں کو جمع کر کے ایک ایسا مضبوط قلعہ تیار کرے کہ جو ہر طرح مکمل ہو۔دنیوی طاقت تو خودان قوموں نے قائم کر لی ہے اور روحانی طاقت احمد بیت کے ذریعہ ان کو مل جائے اور اس طرح ایک ایسا قلعہ تیار ہو جائے جس کی کوئی بھی دیوار کمزور نہ ہو۔