مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 353

353 جماعت کی مالی قربانی اور اخلاص کا تذکرہ اس کے لئے جہاں یہ ضروری ہے کہ جماعت کا ہر فرد تبلیغ کرے وہاں ایک خاص جماعت کا ہونا بھی ضروری ہے جو اسلام کے لئے اپنی زندگیوں کو وقف کر دے۔اس کی طرف میں نے جماعت کو متواتر توجہ دلائی ہے۔کچھ نوجوان آگے آئے بھی ہیں مگر جس حد تک ضروری ہے اس تک نہیں۔پچھلے سالوں میں مالی قربانی کے لحاظ سے جماعت نے نہایت اعلی نمونہ پیش کیا ہے ایسا نمونہ کہ جس پر فخر کیا جاسکتا ہے اور پورے یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا میں اور کوئی قوم ایسی نہیں جو دلی جوش اور ارادہ کے ساتھ ایسی قربانی کرے۔بغیر کسی جبر یا قانون کے اور بغیر کسی ایسے محکمہ کے جو لوگوں کی آمدنیوں کا حساب کر کے ان پر ٹیکس لگائے۔محض اپنے ارادہ سے اتنی قربانی کرنے والی اور کوئی قوم دنیا میں نہیں۔جنگ کے زمانہ میں چونکہ ایک جوش پیدا ہو جاتا ہے اس لئے لوگ زیادہ قربانی کرتے ہیں مگر جو قربانی اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ کرتی ہے ویسی جنگ کے زمانہ میں بھی دوسری قومیں بہت کم کرتی ہیں۔ہماری جماعت کو کوئی ظاہری جنگ در پیش نہ تھی۔روحانی جنگ تھی اور وہ جارہی ہے اور جاری رہے گی۔مگر ظاہری جنگ کے نہ ہونے کے باوجود جماعت کے بڑے حصہ نے قربانی کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا ہے۔اس سے زیادہ لوگ اس لئے شامل نہیں ہو سکے کہ تحریک جدید میں شامل ہونے کے لئے شرط لگادی گئی تھی کہ کم سے کم اتنی رقم دے کر اس میں شمولیت اختیار کی جاسکتی ہے، اس لئے باقی لوگ مجبورا شریک نہ ہو سکے۔ان کا شامل نہ ہو سکنا اس وجہ سے نہ تھا کہ ان کے دل میں شوق نہ تھا بلکہ یہ وجہ تھی کہ ان میں شامل ہو سکنے کی طاقت نہ تھی۔پس جن میں شامل ہونے کی طاقت تھی ان کا اندازہ کرتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسی نوے فیصدی دوستوں نے مالی قربانی کا قابل یاد گار نمونہ پیش کیا ہے لیکن تبلیغ کے لئے وقف زندگی کا نمونہ ایسا شاندار نہیں جو جماعت نے مالی قربانی کے لحاظ سے دکھایا ہے۔ابھی بہت سے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو اپنے اوقات کو کلی طور پر دین کی خدمت میں لگانے کے لئے تیار ہوں۔پھر میں نے ایک اور نقص دیکھا ہے کہ دوستوں میں کام کرنے میں سستی کی عادت ہے۔جسے کسی کام پر مقرر کیا جائے وہ غفلت کرتا ہے۔یہ عادت اہم مہمات کے سر کرنے کے لئے سخت مضر ہے اور فتح کے وقت کو پیچھے ڈال دینے والی عادت ہے۔اس کی اصلاح بھی اسی صورت ہو سکتی ہے کہ اپنی زندگیوں کو وقف کرنے والوں کی ایک ایسی جماعت ہو جو ایک خاص پروگرام کے ماتحت تعلیم و تربیت حاصل کرے اور پھر وہی روح دوسروں میں پیدا کرنے کی کوشش کرے۔اس لئے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کی ضرورت ہے جو اپنی زندگیوں کو دین کے لئے وقف کریں۔