مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 346
346 ذیلی تنظیموں کے قیام کی غرض وغایت ایک طرف ہماری جماعت کو نیکی ، تقویٰ عبادت گزاری دیانت راستی اور عدل وانصاف میں ایسی ترقی کرنی چاہئے کہ نہ صرف اپنے بلکہ غیر بھی اس کا اعتراف کریں۔اسی غرض کو پورا کرنے کے لئے میں نے خدام الاحمدیہ انصار اللہ اور لجنہ اماء اللہ کی تحریکات جاری کی ہیں۔گو میں نہیں کہہ سکتا کہ ان میں کہاں تک کامیابی ہو گی۔بہر حال یہی ایک ذریعہ مجھے نظر آیا جو میں نے اختیار کیا اور اس سب کا یہ کام ہے کہ نہ صرف اپنی ذات میں نیکی قائم کریں بلکہ دوسروں میں بھی پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہیں اور جب تک حتمی طور پر جبر و ظلم ، تعدی بد دیانتی ، جھوٹ وغیرہ کو نہ مٹادیا جائے اور جب تک ہر امیر غریب اور چھوٹا بڑا اس ذمہ داری کو محسوس نہ کرے کہ اس کا کام یہی نہیں کہ خود عدل و انصاف قائم کرے بلکہ یہ بھی کہ دوسروں سے بھی کرائے خواہ وہ افسر ہی کیوں نہ ہو ہماری جماعت اپنوں اور دوسروں کے سامنے کوئی اچھا نمونہ نہیں قائم کر سکتی۔اسی طرح اگر جماعت تعداد کے لحاظ سے بھی ترقی نہ کرے تو دنیا فوائد حاصل نہیں کر سکتی۔وہ بادل جو صرف ایک گاؤں پر برس جائے اتنا مفید نہیں ہو سکتا۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا باول قادیان یا زیادہ سے زیادہ چند بستیوں پر برس جائے اور چند کھیت ہی اس سے فائدہ اٹھائیں تو یہ امر یادر کھے جانے کے قابل نہیں ہو گا۔لیکن اگر وہ دنیا کے ہر کھیت کو سیراب کرے اور ہر فرد کو تازگی بخشے تو یہ ایک تاریخ میں یاد رکھے جانے کے قابل بات ہو گی اور دنیا ہمارے نام کو عزت اور احترام سے یاد رکھے گی۔پس ہمارا سب سے اہم فرض یہ ہے کہ اس پیغام کو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ نازل ہوا دنیا کے کناروں تک پہنچائیں۔تبلیغ بہت ضروری ہے مجھے افسوس ہے کہ ہمارا محکمہ تبلیغ بھی اس کام کی اہمیت کو پوری طرح نہیں سمجھتا۔اس کا زور اتناہی ہے جتنا تین چار گاؤں کی پنچایت کا ہو تا ہے۔نہ محکمہ تبلیغ میں وہ جوش ہے نہ مبلغوں میں اور نہ جماعتوں میں۔ابھی چند لوگوں کو جماعت میں داخل کر کے ہم خوش ہو جاتے ہیں۔میں نے ”الفضل“ میں پڑھا کہ پیغامیوں کے ساتھ سارے سال میں صرف دوسو اشخاص شامل ہوئے ہیں اور ہماری جماعت میں دو ہزار۔مگر کیا کبھی تم نے یہ بھی سوچا