مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 347

347 کہ سال میں دو ہزا بہ کے معنے ہیں ایک صدی میں دو لاکھ۔ایک سو صدی یعنی دس ہزار سال میں دو کروڑ اور یہ بھی کوئی تعداد ہے ؟ ہمارے لئے سال میں دو تین بلکہ چار ہزار احمدی بنانا تو افسوس کی بات ہونی چاہئے۔جب تک جماعت کے ہر فرد کے اندر یہ آگ نہ ہو کہ اس نے ہر ایک اپنے قریب باعد بعید کے شخص کو بھی جماعت میں داخل کرنا ہے اور جب تک لوگ افواج در افواج احمدیت میں داخل نہ ہوں ، ہماری حیثیت محفوظ نہیں ہو سکتی اور ذمہ واری ختم نہیں ہو سکتی پس میں ان دونوں امور کی طرف پھر جماعت کو توجہ دلاتا ہوں۔ہر ضلع میں ہمارے جلسے ہونے چاہئیں۔متواتر انفرادی تبلیغ بھی نہایت ضروری ہے مگر تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ جلسوں کے بغیر وہ جوش جماعت میں پیدا نہیں ہو تا جو انفرادی تبلیغ کے لئے ضروری ہے پس کوشش کی جائے کہ کم سے کم ہر سال ہر تحصیل میں ہمارا جلسہ ضرور ہو۔پھر اس کے ساتھ انفرادی تبلیغ کو بھی منظم کیا جائے۔خصوصیت سے اضلاع گورداسپور سیالکوٹ اور گجرات میں۔ان تینوں اضلاع کی طرف خصوصیت سے توجہ کی جائے۔گورداسپور کے ضلع میں احمدیت کا مرکز ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قادیان میں پیدا کیا۔گجرات کا ضلع سب سے پہلے احمدیت میں آگے بڑھا۔ایک وقت تھا جب گجرات کے احمدی سب سے زیادہ تھے اور سیالکوٹ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دوسر اوطن ہے۔ان اضلاع کی آبادی کی کثرت سے اضلاع سرگودھا، منٹگمری لائلپور اور ملتان کے اضلاع میں جاکر آباد ہوئی ہے اس لئے ان اضلاع کی طرف بھی زیادہ توجہ کرنی چاہئے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ سالوں پر سال گزرتے چلے جاتے ہیں اور ان میں نہ کوئی جلسہ ہوتا ہے اور نہ تبلیغ جو نہایت افسوسناک بات ہے۔پس چاہئے کہ دوست سستی اور غفلت کو دور کریں۔تین چار ماہ کے اندر اندر ہر تحصیل یا اپنے علاقہ کے مرکز احمدیت میں جلسہ کر کے غور کیا جائے کہ کس طرح اور کن ذرائع سے اس علاقہ میں تبلیغ کو وسیع کیا جا سکتا ہے۔اگر دوست اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں تو ایک ہی سال میں ہر جگہ ہیں تمہیں چالیس لوگ آسانی سے جماعت میں داخل ہو سکتے ہیں اور صرف پنجاب میں ہی چند ماہ میں بیس تیس ہزار احمد کی ہو جاتے ہیں۔گو یہ بھی بہت تھوڑی تعداد ہے لیکن اگر یہ سلسلہ شروع ہو جائے تو جوں جوں جماعت بڑھتی جائے گی ترقی کی یہ رفتار بھی بڑھتی جائے گی اور اگلی طاقت پچھلی سے زیادہ ہو گی۔پس دوست اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور کوشش کریں کہ کم سے کم جن اضلاع میں زیادہ جماعتیں ہیں (ایسے اضلاع پنجاب میں ۱۶۔۷ اہوں گے ) ان کی ہر تحصیل یا اس علاقہ کے مرکز احمدیت میں جلسہ کیا جائے اور ایسی سکیم بنائی جائے کہ ہر جماعت تبلیغ میں حصہ لے سکے اور ایسی تدابیر لوگوں کو بتائی جائیں کہ وہ کس طرح اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو تبلیغ کر سکتے ہیں۔میں تحریک جدید کے