مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 321
321 کفارہ نہیں ؟ حضرت عمرؓ تھوڑی دیر خاموش رہے اس کے بعد آپ نے سر اٹھایا۔اس وقت قیصر کی فوجوں سے اسلامی فوجوں کی جنگ ہو رہی تھی۔آپ نے شام کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا وہاں ایک جنگ ہو رہی ہے۔تم اگر اس جنگ میں چلے جاؤ تو شاید ان گناہوں کا کفارہ ہو جائے۔انہوں نے اسی وقت اپنی سواریاں کہیں اور سب کے سب اس جنگ میں شامل ہونے کے لئے چلے گئے اور تاریخ بتاتی ہے کہ وہ سب کے سب وہیں الله مارے گئے۔واپس نہیں آئے۔تو دیکھو یہ عزت تھی جو خدا تعالیٰ نے ان کو ان کی قربانیوں کے بدلہ میں دی۔اگر جس وقت بلال اور مصعب اوریا سڑ کو تپتی ہوئی ریت پر لٹایا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا تم کہولات اور منات کی پرستش میں ہی عزت ہے۔وہ کہہ دیتے کہ ہاں لات اور منات کی پرستش میں ہی عزت ہے تو کیا تم سمجھتے ہو انہیں یہ عزت حاصل ہو سکتی تھی۔اسی طرح جس وقت انہیں پتھروں پر گھسیٹا جا تا تھا۔انہیں مارا اور پیٹا جاتا تھا۔اگر وہ اپنی جانوں کی پرواہ کرتے ہوئے کفار کی ہاں میں ہاں ملا دیتے اور جب انہیں کہا جاتا کہ کہو محمد جھوٹا ہے تو وہ کہہ دیتے محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نعوذ باللہ جھوٹا ہے تو کیا تم سمجھتے ہو ان کو یہ عزت حاصل ہو سکتی تھی۔بلال کو رسول کریم صلی اللہ نے اذان پر مقرر کیا ہوا تھا۔وہ حبشی تھے اور اشہد ان لا اله الا اللہ نہیں کہہ سکتے تھے بلکہ اسهد ان لا اله الا اللہ کہتے۔بعض لوگ ہنستے کہ انہیں صحیح لفظ بھی ادا کرنا نہیں آتا۔ایک دفعہ رسول کریم میل ل ل ل لیلی نے لوگوں کو اسی طرح بلال کی اذان پر بنتے ہوئے سنا تو فرمایا خدا عرش پر بلال کی اذان کی تعریف کرتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کوش اور اس سے کوئی غرض نہیں۔خدا تعالیٰ تو ان پتھروں کو دیکھ رہا تھا جن پر بلال کو گھسیٹا جاتا تھا۔مگر باوجود اس شدید تکلیف کے وہ یہی کہتے اسهد ان لا الہ الا الله وحده لاشريك له واسهدان محمدا عبده ورسولہ۔لوگوں کی نظروں سے وہ ریت کے ذرے اوجھل تھے۔لوگوں کی نظروں سے وہ ریت کے ذرے پوشیدہ تھے کیونکہ ریت کے بعض اور ذروں نے ان کو نگاہوں سے مخفی کر دیا تھا مگر خدا تعالی کے سامنے وہ سرخ سرخ ذرے موجود تھے جن کو بلال کے خون نے سرخ کر دیا تھا۔تو جو لوگ قومی اور ملی مفاد کے لئے قربانی کرتے ہیں خدا تعالیٰ ان کو کبھی ذلیل نہیں کرتا۔جو شخص خدا کے لئے مرتا ہے وہ ہمیشہ کی زندگی پاتا ہے اور جو شخص خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان بچانے کی کوشش کرتا ہے خدا تعالی کے فرشتے اس سے کہتے ہیں مراو ر ہمیشہ کے لئے مر۔مگر جہاں میں یہ کہتا ہوں وہاں میں یہ کے بغیر بھی نہیں رہ سکتا کہ ایسے موقعہ پر یہ محبتیں کبھی کبھی شرک کا رنگ بھی اختیار کر لیا کرتی ہیں۔جیسے میں نے بتایا ہے کہ کانگریسی اپنے جھنڈے کو سلام کرتے ہیں اور بعض قو میں جھنڈے کے سامنے اس طرح جھک جاتی ہیں جیسے رکوع کیا جاتا ہے۔یہ سب ناجائز اموپر ہیں۔پس جہاں تم شعائر اللہ کی حفاظت کرو اور قومی شعائر کا ادب اور احترام اپنے دل میں پیدا کرنے کی کوشش کرد وہاں تم اس بات کو بھی یاد رکھو کہ ان چیزوں کو کبھی ایسا مقام مت دو کہ یہ زندہ خدا کی جگہ لے لیں۔ہمارا خد ا واحد خدا ہے اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک کرنا جائز نہیں۔پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ جن چیزوں کو ہم خادم سمجھتے ہیں ان کو آقا کی جگہ دے دیں۔اس سے زیادہ بیوقوفی اور حماقت کی بات اور کوئی