مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 320
320 عزت دی۔جب انہوں نے خدا تعالٰی کے لئے قربانیاں کیں۔جب لوگ انہیں کہتے کہ تم شرک کرو اور وہ بلند آواز سے کہنے لا الہ الا اللہ جب لوگ انہیں کہتے کہ تم محمد صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو گالیاں دو اور وہ کہتے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ تعالٰی کے بچے رسول ہیں۔تو خدا تعالیٰ ان کی اس قربانی کو آسمان سے دیکھتا اور وہ اپنے فرشتوں سے کہتا کہ جاؤ اور دنیا میں میرے ان بندوں کی ہمیشہ کے لئے عزت قائم کر دو۔چنانچہ پھر وہ دن آیا جب خدا تعالیٰ نے ان کی عزت قائم کی اور مکہ کے رؤسا اور بڑے بڑے سرداروں کو ذلیل کر دیا۔حضرت عمرؓ ایک دفعہ اپنی خلافت کے زمانہ میں مکہ میں حج کے لئے گئے اور مکہ کے بڑے بڑے سرداروں اور رؤسا کے لڑکے جواب اسلام قبول کر چکے تھے ، حضرت عمر کے ملنے کے لئے آئے۔حضرت عمر نے ان کا مناسب احترام کیا اور ان سے باتیں شروع کر دیں۔ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ انہی غلاموں میں سے جو مکہ کی گلیوں میں پتھروں پر گھسیٹے جاتے تھے بعض صحابہ حضرت عمر کی ملاقات کے لئے آئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان نوجوانوں سے کہا ذرا پیچھے ہٹ جاؤ۔وہ پیچھے ہٹ گئے۔اتنے میں ایک دوسرا غلام آگیا۔پھر تیسرا غلام آگیا اور پھر چو تھا غلام آ گیا۔بہت سے غلام صحابہ اس وقت مکہ میں جمع تھے اور سب ایک ایک کر کے حضرت عمرؓ کی ملاقات کے لئے آنے شروع ہو گئے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہر غلام کے آنے پر ان نوجوانوں سے کہتے کہ ذرا پیچھے ہٹ جاؤ یہاں تک کہ ہوتے ہوتے وہ جو تیوں تک جا پہنچے۔یہ دیکھ کر وہ اٹھ کر باہر چلے گئے اور انہوں نے باہر آکر ایک دوسرے سے کہا دیکھا آج ہماری کیسی بے عزتی ہوئی ہے۔وہ غلام جو کل تک ہمارے گھروں میں جھاڑو دیا کرتے تھے۔جو ہمار ا پانی بھرا کرتے تھے۔جو ہمارے لئے گھاس کھود کر لایا کرتے تھے۔جو ہمارے گھوڑوں کے لئے چارہ تیار کیا کرتے تھے۔آج بادشاہی دربار میں ان کو آگے بٹھایا گیا اور ہمیں ہر بار پیچھے ہٹا دیا گیا۔مگر اب وہ ایمان لا چکے تھے اور اب شیطانی وساوس ان پر پورا غلبہ نہیں پاسکتے تھے۔ان میں سے ایک نوجوان بولا اور اس نے کہا اس میں کس کا قصور ہے؟ ہمارا اور ہمارے باپ دادوں کا یا حضرت عمرؓ کا۔انہوں نے کہا قصور تو ہمارے باپ دادوں کا ہی ہے۔اس نے کہا تو پھر اس میں شکوے کی کونسی بات ہے۔انہوں نے کہا ہم شکوہ نہیں کرتے۔ہم صرف یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ کیا اس ذلت کو دور کرنے کا کوئی طریق نہیں۔ان میں سے ایک نے کہا کہ چلو یہی بات حضرت عمرؓ سے دریافت کر لیتے ہیں۔چنانچہ وہ پھر سب کے سب حضرت عمرؓ کی مجلس میں گئے اور ان سے کہا کہ ہم آپ سے ایک بات دریافت کرنا چاہتے ہیں۔حضرت عمر سمجھ گئے اور انہوں نے کہا میں امید کرتا ہوں کہ تم میرے آج کے سلوک سے برا نہیں مناؤ گے کیونکہ میں اس میں بالکل مجبور ہوں۔یہ وہ لوگ ہیں جو محمد علی لایر کے دربار میں معزز سمجھے جاتے تھے۔اس لئے یہ نہیں ہو سکتا کہ ان کے خادم کے دربار میں وہ پیچھے رہیں۔انہیں لازماً آگے بٹھایا جائے گا اور مجھ پر میرے آقا کی طرف سے جو ذمہ داریاں ہیں ان کی وجہ سے میں اس بارہ میں بالکل مجبور ہوں۔انہوں نے کہا ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا نے جو مظالم کئے تھے اس کے نتیجہ میں یہی کچھ ہونا چاہئے تھا۔مگر ہم آپ سے یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ کیا اس ظلم اور تعدی کا ہماری جانوں کے لئے کوئی