مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 277
277 کہ ہرگز صلح نہیں ہونی چاہئے۔آخر ایک شخص نے کہا کہ کسی آدمی کو بھیجا جائے جو مسلمانوں کی تعداد کا اندازہ کر کے آئے۔چنانچہ ایک آدمی بھیجا گیا اور اس نے آکر کہا کہ اے میری قوم! میرا مشورہ یہی ہے کہ ان لوگوں سے لڑائی نہ کرو۔انہوں نے کہا کہ تم بتاؤ تو سہی کہ ان کی تعداد کتنی ہے اور سامان وغیرہ کیا ہے۔اس نے کہا کہ میرا اندازہ ہے کہ مسلمانوں کی تعداد ۳۱۰ اور ۳۳۰ کے درمیان ہے اور کوئی خاص سامان بھی نہیں۔لوگوں نے پوچھا کہ پھر جب یہ حالت ہے تو تم یہ مشورہ کیوں دیتے ہو کہ ان سے لڑائی نہ کی جائے۔جب ان کی تعداد بھی ہم سے بہت کم ہے اور سامان بھی ان کے پاس بہت کم ہے۔اس نے کہا کہ بات یہ ہے کہ میں نے اونٹوں اور گھوڑوں پر آدمی نہیں بلکہ موتیں سوار دیکھی ہیں۔میں نے جو چہرہ بھی دیکھا، میں نے معلوم کیا کہ وہ تہیہ کئے ہوئے ہے کہ وہ خود بھی مر جائے گا اور تم کو بھی مار دے گا۔چنانچہ اس کا ثبوت اس سے ملتا ہے کہ ابو جہل میدان میں کھڑا تھا اور عکرمہ امور خالد بن ولید جیسے بہادر نوجوان اس کے گرد پہرہ دے رہے تھے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں۔میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو دونوں طرف پندرہ پندرہ سال کے بچے کھڑے تھے۔میں نے خیال کیا کہ میں آج کیا جنگ کر سکوں گا جبکہ میرے دونوں طرف چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔لیکن ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ ایک لڑکے نے آہستہ سے مجھے کہنی ماری اور پوچھا۔چاوہ ابو جہل کون ہے جو رسول کریم میں ایم کو دکھ دیا کرتا ہے۔میں نے خدا سے عہد کیا ہے کہ آج اسے ماروں گا۔ابھی وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ دوسرے لڑکے نے بھی اسی طرح آہستہ سے کہنی ماری اور مجھ سے یہی سوال کیا۔میں اس بات سے حیران تو ہوا مگر انگلی کے اشارہ سے بتایا کہ ابو جہل وہ ہے جو خود پہنے کھڑا ہے اور ابھی میں نے انگلی کا اشارہ کر کے ہاتھ نیچے ہی کیا تھا کہ وہ دونوں بچے اس طرح اس پر جا گرے جس طرح چیل اپنے شکار پر جھپتی ہے اور تلواریں سونت کر ایسی بے جگری سے اس پر حملہ آور ہوئے کہ اس کے محافظ سپاہی ابھی تلواریں سنبھال بھی نہ سکے تھے کہ انہوں نے ابو جہل کو نیچے گرا دیا۔ان میں سے ایک کا بازو کٹ گیا۔مگر قبل اس کے کہ باقاعدہ جنگ شروع ہو ابو جہل مہلک طور پر زخمی ہو چکا تھا۔یہ کیا چیز تھی جس نے ان لوگوں میں اتنی جرات پیدا کر دی تھی۔یہ ایمان بالغیب ہی تھا جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو ہر وقت قربانیوں کی آگ میں جھونکنے کے لئے تیار رہتے تھے اور یہ ایمان بالغیب ہی تھا جس کی وجہ سے ان کے دلوں میں یہ یقین پیدا ہو چکا تھا کہ دنیا کی نجات اسلام میں ہی ہے اور خواہ کچھ ہو ہم اسلام کو دنیا میں غالب کر کے رہیں گے۔پس مجلس انصار اللہ خدام الاحمدیہ اور بلجنہ اماءاللہ کا کام یہ ہے کہ جماعت میں تقویٰ پیدا کرنے کی کوشش کریں۔اور اس کے لئے پہلی ضروری چیز ایمان بالغیب ہے۔انہیں اللہ تعالیٰ ملائکہ قیامت ، رسولوں اور ان شاندار اور عظیم الشان نتائج پر جو آئندہ نکلنے والے ہیں۔ایمان پیدا کرنا چاہئے۔انسان کے اندر بزدلی اور نفاق وغیرہ اسی وقت پیدا ہوتے ہیں جب دل میں ایمان بالغیب نہ ہو۔اسی صورت میں انسان سمجھتا ہے کہ میرے پاس جو کچھ ہے یہ بھی اگر چلا گیا تو پھر کچھ نہ رہے گا اور اس لئے وہ قربانی کرنے سے ڈرتا ہے۔یومنون بالغیب کے