مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 17

17 حالانکہ اگر ان کے ذہنوں میں یہ بات ڈال دی جائے اور ان کے قلوب پر اس کا نقش کر دیا جائے۔کہ جو شخص کام کرتا ہے کام کرنیوالا عزت کا مستحق ہے اور نکما بیٹھنے والا باعث ننگ و عار ہے وہ عزت کا مستحق ہے۔اور جو کام نہیں کرتا بلکہ نکمارہتا ہے وہ اپنی قوم اور اپنے خاندان کے لئے عار اور تنگ کا موجب ہے اور یہ کہ معمولی دولتمند یا زمیندار تو الگ رہے ، اگر ایک بادشاہ یا شہنشاہ کا بیٹا بھی نکمارہتا ہے تو وہ بھی اپنی قوم اور اپنے خاندان کے لئے عار کا موجب ہے اور اس چمار کے بیٹے سے بد تر ہے جو کام کرتا ہے۔تو یقینا اگلی نسل درست ہو سکتی ہے۔اور پھر وہ نسل اپنی اگلی نسل کو درست کر سکتی ہے اور وہ اپنے سے اگلی نسل کو یہاں تک کہ یہ باتیں قومی کیریکٹر میں شامل ہو جائیں اور ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو جائیں۔کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ جو باتیں قوم کی عادت بن جاتی ہیں وہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جاتی ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عادت ایک لحاظ سے بری ہے مگر اس میں بھی شبہ نہیں کہ ایک لحاظ سے وہ اچھی بھی ہوتی ہے۔جب کوئی قوم بیدار ہو اور عادت کا فائدہ۔قوم کے سو جانے کے باوجو د عادت باقی رہتی ہے اس وقت وہ اپنے اند ر ا چھی عادتیں پیدا کر لے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ قوم سو جاتی ہے تو اس کی عادت اس کے ساتھ رہتی ہے اور اس طرح وہ نیکی ضائع نہیں جاتی بلکہ محفوظ رہتی ہے چاہے وہ خود اس سے فائدہ نہ اٹھائے بلکہ کوئی اور اس سے فائدہ اٹھائے۔اسی لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ دنیا میں تین قسم کے انسان ہوتے ہیں۔ایک کی مثال تو اس کھیت کی سی ہوتی ہے جس میں پانی آتا ہے اور وہ اسے اپنے اندر جذب کر لیتا ہے نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ اس میں سے خوب کھیتی نکلتی ہے۔اور ایک کی مثال اس زمین کی سی ہوتی ہے جس میں پانی آکر جمع تو ہو جاتا ہے مگر کھیتی نہیں اگتی دوسرے لوگ اس پانی سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ایک کی مثال اس کنکریلی زمین کی سی ہوتی ہے جہاں پانی آتا ہے تو نہ اس زمین میں جذب ہوتا ہے اور نہ اس میں محفوظ رہتا ہے۔اسی طرح انسان بھی تین قسم کے ہوتے ہیں۔ایک تو وہ ہوتے ہیں جو الہی نور اپنے اندر جذب کرتے ، اس سے فائدہ اٹھاتے اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچاتے ہیں۔اور ایک ایسے ہوتے ہیں جو خود تو فائدہ نہیں اٹھاتے مگر جس طرح بعض زمینوں میں پانی جمع ہو جاتا ہے اسی طرح عادت کے طور پر بعض نیک کام ان میں پائے جاتے ہیں اور اس کا گو انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچے مگر کم از کم یہ فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ وہ نیکی محفوظ رہتی ہے۔مثلاً اگر باپ التزام کے ساتھ سوچ سمجھ کر نماز پڑھنے کا عادی ہے اور اس کا بیٹا نماز کا تارک ہے تو پوتا بہر حال نماز کا تارک ہوگا۔کیونکہ اس نے اپنے باپ کو نماز پڑھتے کبھی نہیں دیکھا ہو گا۔لیکن اگر بیٹا نماز تو پڑھتا ہے مگر عاد تا پڑھتا ہے ، دلی ذوق و شوق کے ساتھ نماز نہیں پڑھتا۔تو گو وہ اس فائدہ سے محروم رہے جو حقیقی نماز پڑھنے والوں کو حاصل ہوتا ہے مگر نماز اس کے بیٹوں تک ضرور پہنچ جائے گی۔اور ممکن ہو گا کہ وہ اگلی نسل نماز سے حقیقی فائدہ حاصل کرلے۔