مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 240
240 کمی کا ثبوت ہوتی ہے۔بے شک لطیفہ گو اور تمسخر کرنے والا بعض اوقات مجلس پر چھا جاتا ہے۔لیکن اس مجلس سے نکلنے کے بعد اس کے اپنے دل پر بھی اور سامعین کے دل پر بھی زنگ لگا ہوا ہو تا ہے۔بے شک اس وقت وہ مجلس کو خوش کر لیتا ہے۔مگر جب وہاں سے نکلتا ہے تو خدا تعالیٰ کو چھوڑ چکا ہو تا ہے اور شیطان اس کی گردن پر سوار ہو چکا ہوتا ہے۔حقیقی مبلغ وہی ہے جس کے دل میں ہار جیت کا کوئی سوال نہ ہو۔جس کو ہر وقت یہ خیال رہے کہ اس کے منہ سے کوئی ایسی بات نہ نکل جائے جو خد اتعالیٰ کے نزدیک قابل گرفت ہو۔کئی دفعہ پہلے بھی یہ واقعہ میں سنا چکا ہوں کہ جس زمانہ میں مولوی محمد حسین صاحب تعلیم حاصل کر کے بٹالہ آئے۔تو ان کے خلاف بہت شور تھا کہ پیروں فقیروں کے منکر ہیں۔لوگ ان کی بہت مخالفت کرتے تھے۔انہی دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی وہاں تشریف لے گئے۔بعض حنفیوں نے سوچا کہ ہمارے ایک حنفی عالم آگئے ہیں۔ان کو مولوی محمد حسین صاحب کے مقابلہ پر لے چلیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیشہ اپنے آپ کو حنفی کہا کرتے تھے۔آپ سے لوگوں نے کہا تو آپ نے فرمایا۔اچھا چلتے ہیں۔اگر کوئی بات ہوئی تو کریں گے۔لوگ مجلس میں اکٹھے ہوئے۔آپ بھی تشریف لے گئے۔آپ فرماتے کہ ہم کو اہلحدیث کے متعلق زیادہ واقفیت اس زمانہ میں نہ تھی۔اس لئے مولوی صاحب سے دریافت کیا کہ آپ کے عقائد کیا ہیں تاکہ بحث سے پہلے یہ تو معلوم ہو کہ آپ کہتے کیا ہیں؟ مولوی محمد حسین صاحب نے کھڑے ہو کر بیان کیا کہ ہم خدا کو مانتے ہیں۔رسول ملی ایم کیو ایم کو مانتے ہیں۔قرآن کو خدا تعالی کا کلام مانتے ہیں۔قرآن کریم کو حدیث پر مقدم کرتے ہیں۔اور حدیث کو خیالی آراء پر مقدم کرتے ہیں۔غالی اہلحدیثوں کا عقیدہ تو اس سے سخت ہوتا ہے مگر ممکن ہے مولوی محمد حسین صاحب نے مصلحت وقت کے ماتحت یہ بات کہہ دی ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ باتیں سنکر فرمایا کہ یہ باتیں تو بالکل معقول ہیں۔میں ان کا جواب کیا دوں۔چونکہ اس جواب سے حنفیوں کو کچھ ذلت محسوس ہوئی۔اس لئے انہوں نے بہت برا بھلا کہنا شروع کیا اور طنزیں کرنے لگے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ ہم وہاں سے آگئے اور خاص اللہ کے لئے بحث کو ترک کیا گیا۔رات کو خداوند کریم نے اپنے الہام اور مخاطبت میں اس ترک بحث کی طرف اشارہ کر کے فرمایا۔" تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا۔اور وہ تجھے بہت برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے " ( تذکرہ صفحہ ۹) پس میں چاہتا ہوں کہ ان لوگوں میں سے جو مربی تیار ہوں ، وہ بھی تقویٰ کے ماتحت کام کریں۔سنجیدگی کا دامن کبھی نہ چھوڑیں اور خدا تعالیٰ کی خوشنودی کو ہمیشہ ر نظر رکھیں۔ان کا مقصد بحث کبھی نہ ہو۔بلکہ ایسا نمونہ پیش کریں کہ دوسروں میں جو خرابیاں ہیں ، وہ دو رہو سکیں اور ایسی سد سکندری کا کام دیں جو یا جوج ماجوج کے حملوں کو روک دے۔پس اس کام کے متعلق اپنی زندگیاں وقف کرنے کی تحریک میں جماعت کے نوجوانوں کو کرتا ہوں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس کے لئے گریجوایٹ کی شرط ہے۔لیکن اگر کوئی آخری سالوں میں تعلیم پارہا ہو تو وہ بھی اپنا نام پیش کر سکتا ہے۔وہ اپنی تعلیم جاری رکھے۔پاس ہونے کے بعد انتخاب کے لئے ہم اسے بلا لیں گے۔انٹرنس پاس مولوی فاضل بھی اپنے نام