مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 235

235 پر آج کل کیا کیا حملے کئے جا رہے ہیں اور کون کون سے اعتراضات کئے جاتے ہیں جن کے رو سے یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ دنیا کو مذہب کی ضروت نہیں۔اس کے بعد میں نے ان تمام اعتراضات کے جواب دیئے۔اسی دن شام کو یا دوسرے دن ایک ایم۔اے کا غیر احمدی سٹوڈنٹ مجھے ملنے کے لئے آیا اور کہنے لگا۔میں نے کل آپ کی تقریر سنی ہے۔آپ نے جو اعتراضات بیان کئے تھے وہ تو اتنے زبردست تھے کہ میں نے سمجھا کہ جتنے اعتراض مذہب پر کئے جاتے ہیں وہ سب کے سب بیان کر دیئے گئے ہیں۔مگر آپ کے بعض جوابات سے میری پوری تشفی نہیں ہوئی۔میں نے اسے کہا کہ اپنی تشفی کو سردست رہنے دو۔مگر یہ بتاؤ کہ کوئی اعتراض میں نے چھپایا تو نہیں۔کہنے لگا ہم نے تو جس قدر اعتراضات مذہب کے متعلق سنے ہوئے تھے وہ سب کے سب آپ نے بیان کر دیئے ہیں۔میں نے کہا تو خیر جواب کسی اور وقت سمجھ آجائیں گے۔تو مخالف کے دلائل کو پورے طور پر بیان کرنا ضروری ہوتا ہے۔مثلا کفارے کا مسئلہ ہے۔اسے جس رنگ میں ہمارے علماء کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے ، وہ بالکل غلط ہے۔آج کل عیسائی کفارہ کو اس طریق پر پیش نہیں کرتے بلکہ انہوں نے آہستہ آہستہ اسے ایک فلسفیانہ مضمون بنایا ہے۔اسی طرح تناسخ کا مسئلہ بیان کرتے وقت عام طور پر سنی سنائی باتیں بیان کر دی جاتی ہیں۔حالانکہ جس رنگ میں آج کل تاریخ کا مسئلہ پیش کیا جاتا ہے وہ بالکل اور ہے اسی طرح شرک کے مسئلہ کو فلسفیانہ رنگ دے دیا گیا ہے۔مثلا فلسفی دماغ والے بت پرست آج کل یہ نہیں کہتے کہ ہم بت کو سجدہ کرتے ہیں بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف اپنی توجہ قائم رکھنے کے لئے بت کی طرف اپنا مونہہ کرتے ہیں۔اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ یہ بت خدا کی بعض صفات کے قائم مقام ہیں۔اب اگر شرک کے مسئلہ کو صرف اس رنگ میں بیان کر دیا جائے کہ بعض لوگ خدا کی بجائے بتوں کی پرستش کرتے ہیں۔تو اس سے بت پرستوں کی پوری تسلی نہیں ہو سکتی۔پس مخالفین کے اعتراضات کو کھول کھول کر بیان کرنا چاہئے اور ان کے اعتراض کی کسی شق کو چھپانا نہیں چاہئے۔اس اعتراض کے لئے میں نے اعلان کیا ہے کہ انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کو ہر سال ایک ہفتہ ایسا منانا چاہئے۔جس میں خدا تعالیٰ کی ہستی ، رسول کریم ملی کی نبوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت خلافت اور دیگر مسائل اسلامی کے متعلق احمدیت کے عقائد کو دلائل کے ساتھ بیان کیا جائے اور پھر بتایا جائے کہ ان اعتقادات پر مخالفین کی طرف سے یہ یہ اعتراضات کئے جاتے ہیں اور ان اعتراضات کے یہ یہ جوابات ہیں۔اس کے بعد لوگوں کا زبانی امتحان لیا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ انہوں نے ان باتوں کو کہاں تک یاد رکھا ہے۔چونکہ صرف ایک ہفتہ میں ان تمام مسائل کے متعلق جماعت کے دوستوں کو پوری واقفیت حاصل نہیں ہو سکتی۔اس لئے ہر سال یہ طریق جاری رہنا