مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 234

234 صداقت ثابت کیجئے۔میں نے کہا اس آیت میں کن لوگوں کا ذکر ہے۔کہنے لگا مسلمانوں کا۔میں نے کہا جب رسول کریم میل کے زمانہ میں مسلمان بگڑ سکتے ہیں تو اب کیوں نہیں بگڑ سکتے اور جب آج بھی مسلمان بگڑ سکتے ہیں۔تو ان کی اصلاح کے لئے خدا کی طرف سے کسی کو آنا چاہئے یا نہیں۔تمہاری دلیل یہی ہے کہ محمد ملالی کے بعد کسی مصلح اور مامور کے آنے کی ضرورت ہی کیا ہے مگر قرآن کہتا ہے کہ محمد ملی یا لالی کے بعد تو کیا محمد علی الم کے زمانہ میں بھی بعض لوگ گمراہ تھے اور جب آپ کے زمانہ میں بھی بعض لوگ گمراہ تھے۔تو آپ کے بعد تو بدرجہ اولی مسلمان گمراہ ہو سکتے ہیں اور جب گمراہ ہو سکتے ہیں تو لازماً خدا کی طرف سے مصلح بھی آسکتا ہے۔پس یا تو یہ مانو کہ امت محمدیہ کبھی گمراہ نہیں ہو سکتی اور اگر ایسا کہو تو یہ قرآن کے منشاء کے خلاف ہو گا۔کیونکہ جو آیت تم نے پڑھی ہے ، اس میں یہی ذکر ہے کہ مسلمانوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں۔مگر حقیقت میں وہ مومن نہیں اور جب امت محمدیہ گمراہ ہو سکتی ہے تو اس کی اصلاح کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی مامور بھی آسکتا ہے۔یہ بات جو میں نے اس کے سامنے کسی یونسی مشغلہ کے طور پر نہیں کہہ دی تھی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن سارے کا سارا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ثبوت ہے۔جس طرح تو رات کا جتنا سچا حصہ ہے وہ سارے کا سارا رسول کریم میں اسلام کی صداقت کا ثبوت ہے۔جس طرح انجیل کا جتنا سچا حصہ ہے وہ سارے کا سارا رسول کریم میں لی لی لیلی کی صداقت کا ثبوت ہے۔اسی طرح قرآن سارے کا سارا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سچائی کا ثبوت ہے۔قرآن سارے کا سارا حضرت عیسی علیہ السلام کی سچائی کا ثبوت ہے۔قرآن سارے کا سارا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ثبوت ہے۔جس طرح قرآن سارے کا سارا رسول کریم ملی و یا لیلی کی صداقت کا ثبوت ہے اس کی طرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا تھا کہ کان خـلـقـه القـرآن یعنی قرآن اور محم م ل ل ل ل ل لا میں کوئی فرق نہیں۔بلکہ قرآن کی ہر آیت محمد میل کی صداقت ثابت کرتی ہے۔پس جماعت میں بیداری جماعت میں بیداری پیدا کرو۔انہیں دینی اور مذہبی مسائل سکھاؤ پیدا کرو۔انہیں دینی اور مذہبی مسائل سکھاؤ۔انہیں دوسروں کے خیالات کو پڑھنے دو اور اگر وہ خود نہیں پڑھتے تو خود انہیں پڑھ کر سناؤ اور پھر ان کے ہر اعتراض کا انہیں جو اب بتاؤ۔مگر بالعموم ایک غلطی یہ کی جاتی ہے کہ اپنے جواب کو تو مضبوط رنگ میں بیان کیا جاتا ہے اور دوسروں کے اعتراض کو بو دا کر کے پیش کیا جاتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب لوگ اصل اعتراض کو دیکھتے ہیں۔تو خیال کر لیتے ہیں کہ ہمارے لوگ بھی جھوٹ بول لیتے ہیں۔یہ طریق بالکل غلط ہے۔تمہیں چاہئے کہ مخالف کی دلیل کو پوری مضبوطی سے بیان کرو اور اس کا کوئی پہلو بھی ترک نہ کرو تا اپنے اور بیگانے یہ نہ کہہ سکیں کہ اعتراض کے ایک حصہ کو تو لے گیا ہے اور دوسرے حصہ کو چھوڑ دیا گیا ہے۔میں ایک دفعہ لاہور گیا اور وہاں ”مذہب کی ضرورت " پر میں نے ایک تقریر کی۔ابتدائی تقریر میں میں نے بیان کیا کہ مذہب