مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 226

226 مسلمانوں کے تنزل کا بھی زیادہ تر یہی سبب ہوا کہ وہ غیر مذاہب کی کتب مسلمانوں کے تنزل کا سبب کے پڑھنے سے غافل ہو گئے۔چنانچہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ مسلمان کسی عیسائی کی کتاب نہیں پڑھیں گے۔کسی ہندو کی کتاب نہیں پڑھیں گے۔کسی اور مذہب والے کی کتاب نہیں پڑھیں گے۔صرف اپنے ہی مذہب کی کتاب پڑھتے رہیں گے۔نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ چونکہ انہیں پتہ ہی نہیں ہو تاکہ عیسائی کیا کہتے ہیں۔ہندو کیا باتیں پیش کرتے ہیں۔اس لئے جب ہند و یا عیسائی ان سے کسی مذہبی مسئلہ پر گفتگو کرتے ہیں تو وہ آسانی سے ان کا شکار ہو جاتے ہیں۔لیکن عیسائی دوسرے مذاہب کی کتب کو خوب غور سے پڑھتے ہیں اور خواہ ان کے سامنے کتنی ہی زبردست دلیلیں پیش کی جائیں ان پر کوئی اثر نہیں ہو تا۔پس بجائے اس کے کہ میں اس قسم کے لٹریچر کی اشاعت کو نا پسند کروں اور جماعت کو اس کے پڑھنے سے روک دوں۔میں تحریک کرتا ہوں کہ جماعت کو اپنی فرصت کے اوقات میں اس قسم کا لٹریچر ضرور پڑھنا چاہئے۔اگر تمہیں معلوم ہی نہیں کہ مخالف کیا کہتا ہے تو تم اس کا جواب کیا دو گے ؟ اور اگر ہماری جماعت کے بعض لوگ اتنے ہی کمزور ہیں کہ وہ مخالف کی ایک کتاب پڑھ کر اپنا ایمان چھوڑنے کے لئے تیار ہو جائیں گے تو ایسے لوگوں کو سنبھالنے سے کیا فائدہ؟ ایک شاعر نے طنز ا کہا ہے کہ "کیا ڈیڑھ چلو پانی ایمان بہہ گیا" اس نے تو ایک ناجائز چیز کا ذکر کر کے کہا ہے کہ کیا میں اس کا ڈیڑھ چلو پی کر ہی کا فر ہو گیا مگر جو جائز باتیں ہیں ان کے متعلق ہم یہ کہاں فرض کر لیں کہ ہماری جماعت میں کوئی شخص ایسا بھی ہے جس کا ایمان مخالفوں کا ایک اشتہار یا صرف ایک ٹریکٹ یا ایک کتاب پڑھنے سے ہی ضائع ہو جائے گا اور وہ ایسا متاثر ہو گا کہ احمدیت کو چھوڑ دے گا اور اگر کوئی متاثر ہو گا تو اسی وجہ سے کہ ہم نے اسے احمدیت کی حقانیت کے دلائل پوری طرح نہیں سمجھائے ہوں گے۔حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی قوم دوسروں کا لٹریچر پڑھنے سے غافل ہو جاتی ہے تو وہ اپنی اس ذمہ داری کی جو قوم کے تمام افراد کو صحیح تعلیم دینے سے تعلق رکھتی ہے ادا کرنے میں سست ہو جاتی ہے۔اس قوم کے افراد یہ خیال کرتے ہیں کہ جب ہم نے دوسروں کا لٹریچر پڑھنے سے اپنی تمام قوم کو منع کر دیا ہے تو وہ غیر کے اثرات سے متاثر ہی کب ہو گی۔گویا وہ اصلاح کا ایک شارٹ کٹ تجویز کرتے ہیں۔حالانکہ اس سے زیادہ خطرناک اور تباہ کن راستہ اور کوئی نہیں۔جب ہم اپنی جماعت کے افراد کو یہ آزادی دیں گے کہ وہ دوسروں کے لٹریچر کو بھی پڑھیں تو لازما ہمیں یہ فکر رہے گا کہ ہم دوسروں کے پیدا کردہ شبہات کا بھی ازالہ کریں اور اس کے تردیدی دلائل ان کے ذہن نشین کریں۔لیکن اگر ہم انہیں دوسروں کا لٹریچر پڑھنے سے ہی منع کر دیں گے تو لازما ہم تعلیمی پہلو میں ست ہو جائیں گے اور ہمیں یہ احساس نہیں رہے گا کہ دوسروں کے دلائل کا جواب بھی اپنے افراد کو سکھانا چاہئے۔چنانچہ فرض کرو اگر ہم کہہ دیں کہ جماعت کا کوئی شخص دوسروں کا لٹریچر نہ پڑھے تو چونکہ حیات مسیح کے دلائل جو وہ پیش کرتے ہیں ، انہی کی کتب میں سے مل سکتے ہیں۔اس لئے یہ دلائل ہماری جماعت کی نظروں