مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 221
221 اپنے عملی نمونہ سے یہ ثابت کر دیں گے کہ دنیا میں خدا تعالی کی واحد جماعت آپ ہی ہیں اور یہ ثبوت اس طرح دیا جا سکتا ہے کہ آپ لوگ اپنے اوقات کی قربانی کریں۔اپنے مالوں کی قربانی کریں۔اپنی جانوں کی قربانی کریں اور خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت اور احمدیت کی ترویج کے لئے دن رات کوشش کرتے رہیں۔اگر ہم یہ نہیں کرتے اور محض اپنا نام لکھا دینا کافی سمجھتے ہیں تو ہم اپنے عمل سے خدا تعالیٰ کی محبت کا کوئی ثبوت نہیں دیتے۔پس صرف ان مجالس میں شامل ہونا کافی نہیں بلکہ اپنے اعمال ان مجالس کے اغراض و مقاصد کے مطابق ڈھالنے چاہئیں۔خدام الاحمدیہ کا فرض ہے کہ وہ اپنے اعمال سے خدمت احمدیت کو خدام الاحمدیہ کا فرض ثابت کر دیں۔انصار اللہ کا فرض ہے کہ وہ اپنے اعمال سے دین اسلام کی نصرت نمایاں طور پر کریں اور اطفال احمدیہ کا فرض ہے کہ ان کے اعمال اور ان کے اقوال تمام کے تمام احمدیت کے قالب میں ڈھلے ہوئے ہوں۔جس طرح بچہ اپنے باپ کے کمالات کو ظاہر کرتا ہے ، اسی طرح وہ احمدیت کے کمالات کو ظاہر کرنے والے ہوں۔یہی غرض اس نظام کو قائم کرنے کی ہے اور یہی غرض انبیاء کی جماعتوں کے قیام کی ہوا کرتی ہے۔مگر مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ہماری اس تنظیم سے بعض لوگوں میں ایک بے چینی سی پیدا ہو گئی ہے۔چنانچہ تھوڑے ہی دن ہوئے کسی اخبار کا ایک مضمون میرے سامنے پیش کیا گیا جس میں اس بات پر بڑے غصے کا اظہار کیا گیا تھا کہ انہوں نے کہا ہے جو شخص خدام الاحمدیہ میں شامل ہونے سے دور بھاگے گا وہ خدام الاحمدیہ سے دور نہیں بھاگے گا بلکہ احمدیت سے دور بھاگے گا۔کہتے ہیں ”ماں سے زیادہ چاہے ، کٹنی کہلائے بھلا ان کو احمدیوں سے کیا واسطہ۔ایک جماعت کا امام ایک نظام کا حکم دیتا ہے اور جماعت والے اس نظام کو قبول کر لیتے ہیں۔وہ اپنی جماعت سے راضی اور جماعت اپنے امام سے راضی۔پھر ان کو بیٹھے بٹھائے کیوں آپچ و تاب اٹھنے لگتے ہیں۔میں اگر کسی کو کہتا ہوں کہ اس نے اگر فلاں بات پر عمل نہ کیا تو جماعت سے اس کا کوئی تعلق نہیں رہے گا۔تو وہ میری بات کو خوشی سے سنتا اور اس پر عمل کرنے کیلئے تیار ہو جاتا ہے۔اسی طرح میں بوجہ جماعت کا امام ہونے کے وہی بات کہہ سکتا ہوں جس میں لوگوں کا فائدہ ہو۔پھر جب کہ جماعت بھی اپنے فائدہ کو سمجھتی ہوئی ایک بات پر عمل کرتی ہے اور امام بھی وہی بات کہتا ہے جس میں جماعت کا فائدہ ہو تو کسی دوسرے کو اس میں دخل دینے کا کیا حق ہے۔علاوہ ازیں یہ بھی تو سوچنا چاہئے کہ میں ، جس کے ساتھ جماعت کا تعلق ہے ، اگر جماعت کے بعض افراد کو ان کی کو تاہی کو دور کرنے کے لئے کوئی تنبیہ کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اگر انہوں نے یہ عمل نہ کیا تو وہ ہماری جماعت میں نہیں رہیں گے تو اس پر انہیں تو بجائے ناراض ہونے کے خوش ہو نا چاہئے کہ اب جماعت کم ہو جائے گی مگر ہوا یہ کہ وہ مخالفت میں اور بھی بڑھ گئے۔میں نے جیسا کہ ابھی کہا ہے جماعت کی اصلاح کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ خدام الاحمدیہ یا دوسری