مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 191
191 ایک ایک چیز کا اجمالی علم میرے ذہن میں موجود ہے اور اسی کا ایک حصہ خدام الاحمدیہ ہیں۔اور در حقیقت یہ روحانی ٹریننگ اور خدام الاحمدیہ روحانی ٹرینینگ اور روحانی تعلیم و تربیت ہے روحانی تعلیم و تربیت ہے اس فوج کی، جس فوج نے احمدیت کے دشمنوں سے مقابلہ میں جنگ کرنی ہے۔جس نے احمدیت کے جھنڈے کو فتح اور کامیابی کے ساتھ دشمن کے مقام پر گاڑنا ہے۔بے شک وہ لوگ جو ان باتوں سے واقف نہیں وہ میری ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتے کیونکہ ہر شخص قبل از وقت ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتا۔یہ اللہ تعالیٰ کی دین ہے جو وہ اپنے کسی بندے کو دیتا ہے۔میں خود بھی اس وقت تک ان باتوں کو نہیں سمجھا تھا جب تک اللہ تعالی نے مجھ پر ان امور کا انکشاف نہ کیا۔پس تم ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتے اور بے شک تم کہہ سکتے ہو کہ ہمیں تو کوئی بات نظر نہیں آتی لیکن مجھے تمام باتیں نظر آرہی ہیں۔آج نوجوانوں کی ٹرینینگ اور ان کی تربیت کا زمانہ ہے اور ٹرینینگ کا زمانہ خاموشی کا زمانہ ہوتا ہے۔لوگ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ کچھ نہیں ہو رہا مگر جب قوم تربیت پا کر عمل کے میدان میں نکل کھڑی ہوتی ہے تو دنیا انجام دیکھنے لگ جاتی ہے۔در حقیقت ایک ایسی زندہ قوم جو ایک ہاتھ کے اٹھنے پر اٹھے اور ایک ہاتھ کے گرنے پر بیٹھ جائے دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کر دیا کرتی ہے اور یہ چیز ہماری جماعت میں ابھی پیدا نہیں ہوئی۔ہماری جماعت میں قربانیوں کا مادہ بہت کچھ ہے مگر ابھی یہ جذبہ ان کے اندر کمال کو نہیں پہنچا کہ جونہی ان کے کانوں میں خلیفہ وقت کی طرف سے کوئی آواز آئے اس وقت جماعت کو یہ محسوس نہ ہو کہ کوئی انسان بول رہا ہے بلکہ یوں محسوس ہو کہ فرشتوں نے ان کو اٹھا لیا ہے اور صور اسرافیل ان کے سامنے پھونکا جا رہا ہے۔جب آواز آئے کہ بیٹھو تو اس وقت انہیں یہ معلوم نہ ہو کہ کوئی انسان بول رہا ہے بلکہ یوں محسوس ہو کہ فرشتوں کا تصرف ان پر ہو رہا ہے اور وہ ایسی سواریاں ہیں جن پر فرشتے سوار ہیں۔جب وہ کھے بیٹھ جاؤ تو سب بیٹھ جائیں۔جب کے کھڑے ہو جاؤ تو سب کھڑے ہو جائیں۔جس دن یہ روح ہماری جماعت میں پیدا ہو جائے گی اس دن جس طرح باز چڑیا پر حملہ کرتا اور اسے توڑ مروڑ کر رکھ دیتا ہے اسی طرح احمدیت اپنے شکار پر گرے گی اور تمام دنیا کے ممالک چڑیا کی طرح اس کے پنجہ میں آجائیں گے اور دنیا میں اسلام کا پرچم پھر نئے سرے سے لہرانے لگ جائے گا۔" (خطبہ جمعہ فرموده ۷ امارچ ۱۹۳۹ء مطبوعہ الفضل ۷ اپریل ۱۹۳۹ء)