مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 163
163 دیکھو میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ دعا کرتے وقت صفات الہیہ کو مد نظر رکھنا چاہئے اور جس قسم کی دعا کی جائے ، اس قسم کی صفات الہیہ کو جنبش میں لانے کی کوشش کی جائے مگر میں نے ایک شخص کو ایک دفعہ دیکھا وہ دعا کر رہا تھا۔اس قدر سوز اور اس قدر تضرع سے کہ اس کے آنسو بہہ رہے تھے اور اس کا جسم کانپ رہا تھا مگر وہ دعا یہ کر رہا تھا کہ اے رحیم و کریم تو میرے فلاں دشمن کو تباہ کر دے۔اب بتاؤ رحیم و کریم کسی دشمن کو کیوں تباہ کرنے لگا۔وہ تو جب بھی یہ سنے گا کہ اے رحیم و کریم فلاں دشمن کو ہلاک کر دے تو وہ کہے گا میں تو رحیم و کریم ہوں میں اسے معاف کرتا ہوں۔تو اس قسم کی دعامانگنا اللہ تعالیٰ کی مزاج دانی کے خلاف ہے کہ خدا کی اس صفات کو حرکت میں لانا جو لوگوں پر رحم کرنے والی ہے اور کہنا یہ کہ وہ دوسرے کو عذاب دے۔کیا جب کسی نے کسی دوسرے شخص کے بچہ کو باپ سے سزا دلوانی ہو تو وہ اس سے جاگر یہ کہا کرتا ہے کہ آپ کے بچے نے فلاں قصور کیا ہے، اسے سزا دیں یا وہ یہ کہا کرتا ہے کہ اپنے پیارے بچے کو تھپڑ مار دیں۔وہ تو جب کہے گا کہ اے مہربان باپ اپنے پیارے بچے کو تھپڑ مار دیں تو اس کا باپ بجائے اسے مارنے کے اسے پیار کرنے لگ جائے گا کیونکہ اس نے پیار کے جذبہ کو برانگیختہ کرنے والے الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ذہانت کی بدولت انسان ایسے مقام پر پہنچتا ہے جب اس کی دعائیں دو بسروں کی نسبت تو ذہانت کی وجہ سے ہی انسان دنیا میں ترقی کرتا ہے ' ذہانت کی وجہ سے ہی انسان اس زیادہ قبول ہوتی ہیں مقام پر پہنچتا ہے جب اس کی دعائیں دوسروں کی نسبت زیادہ قبول ہونے لگتی ہیں اور ذہانت کی وجہ سے ہی اگر ہم انسانی اصطلاح استعمال کریں تو کہہ سکتے ہیں کہ وہ خدا تعالی کا مزاج دان ہو جاتا ہے اور اس طرح وہ ہر روز اپنے علم اور اپنے عرفان میں ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔اس کے ساتھ ہی میں ایک اور بات بھی کہہ دینا چاہتا ہوں مگر میں اسے لمبا نہیں کروں گا بلکہ مختصر الفاظ میں ہی اس کی طرف توجہ دلا دیتا ہوں اور وہ یہ کہ خدام الاحمدیہ کا ساتواں فرض یہ ہے کہ وہ اپنے اندر استقلال پیدا کرنے کی کوشش کریں۔استقلال اس بات کو کہا جاتا ہے کہ کسی کام کی حکمت سمجھ میں آئے یا نہ آئے انسان برابر اپنے کام میں لگا ر ہے۔بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہمارے سپرد جو کام کیا گیا۔ہماری سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیوں ہمارے سپرد کیا گیا ہے حالانکہ استقلال کے معنے ہی یہ ہیں کہ انسان جس کام پر مقرر کیا جائے خواہ اس کام کی غرض اس کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے اسے کرتا چلا جائے۔اس مادہ کو بھی خدام الاحمدیہ مختلف تجارب سے بڑھا سکتے ہیں مثلاً روزانہ یا ہفتہ وار خدام الاحمدیہ کی حاضری لیں اور جو نہ آئیں یا کبھی آجائیں اور کبھی نہ آئیں ان کے نام نوٹ کریں اور سمجھ لیں کہ ان میں استقلال کا مادہ نہیں۔پھر ان غیر مستقل مزاج ممبروں کو توجہ دلاؤ کہ اپنے نقص کو رفع کریں اور اپنے اندر استقلال پیدا کریں اور جب دیکھیں کہ وہ پھر بھی توجہ نہیں کرتے تو اپنے