مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 162

162 خدام الاحمدیہ کے ارکان مفوضہ فرائض میں غفلت یا کوتاہی پر سزا برداشت کرنے کا عمد اسی لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ خدام الاحمدیہ کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے ہر ممبر سے یہ اقرار لیں کہ اگر کریں اس نے اپنے مفوضہ فرائض کی ادائیگی میں غفلت یا کو تاہی سے کام لیا تو وہ ہر سزا برداشت کرنے کے لئے تیار رہے گا اور خدام الاحمدیہ کے ممبران کا فرض ہے کہ وہ خود اس کے لئے سزا تجویز کریں۔اگر وہ سزا بھگتنے کے لئے تیار نہ ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ خدام الاحمدیہ میں شامل رہنے کے قابل نہیں اور اگر وہ سزا بھگت لے گا تو یقینا وہ اگلی دفعہ پہلے سے زیادہ اچھا کام کرے گا۔اگر کوئی اس پر معترض ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ کیوں سزا دی جاتی ہے تو اسے کہنا چاہئے کہ کیوں اس نے محبت کے جذبہ کے ماتحت پہلے ہی کام ٹھیک نہ کیا۔اگر وہ محبت کامل سے کام لیتا تو اس کے کام میں کوئی خرابی پیدا نہ ہوتی اور اسے سزا بھی نہ ملتی مگر جب محبت والا ذریعہ اس نے چھوڑ دیا اور محبت کی کتاب سے اس نے سبق نہیں لیا تو اب ضروری ہے کہ اسے سزا کی کتاب سے سبق دیا جائے۔بہر حال اگر وہ سبق قیمتی ہے جس کے سیکھنے کے لئے وہ اس مجلس میں شامل ہوا تھا تو جائز ذریعہ بھی اس کے لئے اختیار کیا جائے“ وہ اچھا ہے اور اگر سبق اچھا نہیں تو پھر اس کے لئے کسی قربانی کی ضرورت نہیں خواہ وہ کس قدر معمولی اور حقیر کیوں نہ ہو۔تو خدام الاحمدیہ کو نو جوانوں کے اندر ذہانت پیدا کرنی چاہئے۔میں ذہانت پیدا کرنے کے ذرائع بتانے کے لئے ہر وقت تیار ہوں۔صرف ایک بات ہے جس کے لئے انہیں تیار رہنا چاہئے اور وہ یہ کہ جب کسی سے کوئی قصور سرزد ہو تو وہ اس سزا کو برداشت کرنے کے لئے ہر وقت آمادہ رہے کیونکہ اس کے بغیر کبھی ذہانت پیدا نہیں ہو سکتی۔جب یہ ذہانت کسی انسان کے اندر پیدا ہو جائے تو پھر اس کا علم اور ترقی کرتا ہے اور جب انسان بہت زیادہ ذہین ہو جاتا ہے تو اس کا علم لدنی بڑھنے لگتا ہے۔کتابی علم صرف کتابیں پڑھنے سے بڑھتا ہے مگر لدنی علم ذہانت سے بڑھتا ہے۔جس طرح ذہین آدمی اگلے شخص کی ہر بات سے صحیح نتیجہ نکالتا ہے اسی لدنی علم ذہانت سے بڑھتا ہے طرح جس شخص کا ذہانت کے بعد علم لدنی بڑھنے لگتا ہے وہ خداتعالی کے ارادہ اور اس کی منشاء کو اس کی صفات سے پہچان جاتا ہے۔وہ زمین کو دیکھ کر وہ آسمان پر نظر دوڑا کر وہ پہاڑوں کی طرف نگاہ اٹھا کر وہ ذرے ذرے اور بات بات کو دیکھ کر فورا تا ڑ جاتا ہے الہی منشاء کیا ہے اور رفتہ رفتہ ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اس کی دعا ئیں بہت زیادہ قبول ہونے لگتی ہیں اور گو خدا تعالی کے لئے تو اس لفظ کا استعمال مناسب نہیں مگر انسانی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا مزاج دان ہو جاتا ہے۔جس طرح وہ شخص جو کسی دوسرے کا مزاج دان ہوتا ہے ، اس سے بہت جلد اپنی بات منوا لیتا ہے اسی طرح یہ بھی خدا تعالیٰ کا مزاج دان ہو جانے کی وجہ سے اس سے وہ باتیں منوا لیتا ہے جو دوسرے لوگ منوا نہیں سکتے۔