مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 142
142 کو عام کرنا چاہئے اور ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ اسے اس طرح پھیلائیں کہ اس کا اثر نمایاں طور پر نظر آنے لگے۔کوئی کام اس وقت تک مفید نہیں ہو سکتا جب تک قوم پر اس کا اثر نہ ہو۔رسول کریم ملی لی نے ایک شخص کو دودھ پینے کے لئے دیا۔اس نے پیا تو آپ نے فرمایا اور پیو۔اس نے اور پیا تو آپ نے فرمایا اور پیو۔اس نے کہا یا رسول اللہ ! اب تو میرے مساموں میں سے دودھ بہنے لگا ہے۔آپ کا مطلب یہ تھا کہ خدا تعالی جو نعمت دے اس کے آثار چہرہ پر ظاہر ہونے چاہئیں۔پس ہمارے سب کام اس رنگ میں ہونے چاہئیں کہ ان کا اثر ظاہر ہو جائے۔میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میں اس صفائی کا بھی قائل نہیں بناؤ سنگار اور حقیقی صفائی میں فرق ہوں جیسی بعض انگریز کرتے ہیں کہ ذرا سا دھبہ کپڑا میں لگ گیا تو اسے اتار دیا یا جیسا کہ آج کل کے بعض نوجوان کرتے ہیں کہ بالوں کو برش کرتے رہے۔کئی کئی گھنٹے بالوں اور چہرہ کی صفائی میں لگا دیتے ہیں۔میرا مطلب صرف اس صفائی سے ہے جو صحت پر اثر ڈالتی ہے۔یہ کوئی صفائی نہیں کہ داڑھی اور مونچھوں کو مونڈتے اور بالوں کو کنگھی اور برش کرتے رہتے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس عورت کی نئی نئی شادی ہوئی ہے۔یہ صفائی نہیں بلکہ لغویت اور بیہودگی ہے۔ہاں جہاں گندگی اور غلاظت ہوا سے دور کرنا چاہئے۔اگر اس سنگار کا نام صفائی ہے تو پھر تو لندن کے چند کروڑپتی ہی صفائی رکھ سکیں گے جو یو ڈی کولون پانی میں ڈال کر نہاتے ہیں۔اگر ہمارے غریب زمیندار ایسی صفائی رکھنے لگیں تو ہر سال ایک گھماؤں زمین بیچ کر نہانے کا ہی انتظام کر سکتے ہیں۔مگر یہ کوئی صفائی نہیں بلکہ تعیش ہے۔وہ صفائی جو اسلام چاہتا ہے یہ ہے کہ گند نظرنہ آئے اور صحت خراب نہ ہو۔پھر بعض لوگ ایسے صفائی پسند ہوتے ہیں کہ مصافحہ بھی کسی سے نہیں کرتے کہ اس طرح کیڑے لگ جاتے ہیں۔یہ بھی صفائی نہیں بلکہ جنون ہے۔ایسی صفائی جو اخلاق کو تباہ کر دے جائز نہیں۔بعض لوگ کسی کے ساتھ برتن میں کھانا نہیں کھاتے۔یہ بھی ان کے نزدیک صفائی ہے۔مگر ایسی صفائی سے اسلام منع کرتا ہے جو صفائی اخوت اور محبت میں روک ہو ، وہ بے دینی ہے۔پس ہر کام کے وقت اس کی خوبی اور برائی کا موازنہ کر کے دیکھنا چاہئے۔مصافحہ کرنے سے اگر فرض کرو کوئی بیمار بھی ہو جائے یا سال میں آٹھ دس آدمی اس طرح مر بھی جائیں تو اس محبت اور پیار کے مقابلہ میں جو اس سے پیدا ہو تا ہے اور ان دوستیوں کے مقابلہ میں جو اس سے قائم ہوتی ہیں اس کی حقیقت ہی کیا ہے ؟ اگر محبت کے ذریعہ لاکھوں آدمی بچیں اور آٹھ دس مر بھی جائیں تو کیا ہے۔دیکھنا تو یہ چاہئے کہ نقصان زیادہ ہے یا فائدہ اور جو چیز زیادہ ہو اس کا خیال رکھنا چاہئے کیونکہ ہر بڑی چیز کے لئے چھوٹی قربان ہوتی ہے۔پس ایسی صفائی جس سے تعیش اور وقت کا ضیاع ہو یا محبت میں روک ہو اسے مٹانا چاہئے۔ہندوؤں میں یہ