مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 143

143 صفائی ہوتی ہے کہ بیوی ایک پتہ لے کر الگ بیٹھ جاتی ہے اور خاوند الگ اور برہمن ہر ایک کی طرف کتے کی طرح روٹی پھینکتا جاتا ہے۔مجھے بھی ایک دفعہ ایک ایسی دعوت کھانے کا اتفاق ہوا جو آریہ پرتی ندھی سبھا کے مرکز میں تھی۔سب کے آگے علیحدہ علیحدہ پتے اور ان پر کچوریاں وغیرہ رکھ دی گئیں۔یہاں تو خیر تھی۔لیکن اس کے بعد کی ذلت کو کوئی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا۔رسوئیا آکر دروازہ میں کھڑا ہو گیا اور پوچھنے لگا کہ کس کو کتنی کچوریاں چاہئیں۔دو چاہئیں یا ایک یا پونی یا آدھی یا پاؤ۔اتنی احتیاط تھی کہ جسے پاؤ کی ضرورت ہے اسے آدھی نہ چلی جائے تاباقی پاؤ ضائع نہ ہو اور پھر وہیں سے ہر ایک کے آگے جتنی وہ مانگتا پھینک دیتا تھا اور نشانہ اس کا واقعی قابل تعریف تھا۔میں نے تو کہہ دیا کہ مجھے تو کوئی ضرورت نہیں۔تو جس صفائی سے وقت ضائع ہو یا محبت میں فرق آئے یا انسانی تعلقات میں فرق آئے ، وہ جائز نہیں اور یہ پہلو میں نے اس لئے واضح کر دیا ہے کہ کوئی غلو میں اس طرف نہ نکل جائے اور تیل ، کنگھی ، چوٹی اور سرمہ کے استعمال کو ہی صفائی نہ سمجھ لیا جاوے۔یہ صفائی نہیں خطبه جمعه فرموده ۲۴ فروری ۱۹۳۹ ء مطبوعہ الفضل ۷ امارچ ۱۹۳۹ء) ہے۔