مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 100
100 ساتھ لے جاسکتا ہے اور اس لئے دونوں میں سے وہی مطالبہ صحیح ہو سکتا ہے جو ممکن ہے۔نوجوان اگر یہ مطالبہ کرے کہ بوڑھا تیز چل کر اس کے ساتھ ملے تو اس کا یہ مطالبہ بے وقوفی کا مطالبہ سمجھا جائے گا کیونکہ تیز چلنا بوڑھے کے لئے ممکن ہی نہیں۔ہاں وہ خود تیز چلنے کی طاقت رکھتے ہوئے بھی آہستہ چل سکتا ہے لیکن جب یہ ایسا کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اپنی آزادی پر قید لگاتا ہے۔خدا تعالی نے اسے طاقت دی ہے کہ چار پانچ میل ایک گھنٹہ میں طے کر جائے مگر چونکہ اس کا ساتھی بوڑھا ہے اور پون میل سے زیادہ نہیں چل سکتا، اس لئے یہ بھی اپنی رفتار اتنی ہی کر لیتا ہے اور اتنا ہی چلتا ہے۔اس کا اتنی کم رفتار سے چلنا اس کی اپنی کمزوری کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہے کہ اپنے بوڑھے اور کمزور ساتھی کو بھی ساتھ لے جاسکے اور یہی حقیقی تعاون ہے کہ انسان کو اختیار اور طاقت حاصل ہو رتبہ حاصل ہو ، روپیہ موجود ہو مگر وہ ان کے متعلق اپنے اختیارات پر خود قید میں لگا دے۔روپیہ خرچ کرنے کے لئے موجود ہو مگر کم خرچ کرے یا اسے دو سروں کے لئے خرچ کرنے لگے۔موجود ہونے کے باوجود کم خرچ کرنے کی مثال روزہ ہے اور دوسروں کی خاطر خرچ کرنے کی مثال صدقہ ہے۔روزہ میں کم خرچ کیا جاتا ہے۔ایک امیر آدمی بھی سب کچھ موجود ہونے کے باوجود اپنی شکل قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر مقدم کرے غریبوں کی سی بنا تا ہے۔دراصل سحری کی غرض یہی ہے کہ انسان جو بھی کھاتا ہے چوری چھپے کھاتا ہے اور جب لوگوں کے سامنے آتا ہے تو ایسی حالت میں کہ اس کے چہرہ سے فاقہ کشی اور غربت کے آثار ہویدا ہوتے ہیں اور اس طرح وہ جسے کھانے کو ملتا ہے اور وہ بھی جسے نہیں ملتا سب یکساں نظر آتے ہیں۔جو کچھ کھانا ہو تا ہے وہ سحری کے وقت ہی کھا لیا جاتا ہے اور ایک دوسرے کے سامنے آنے کے وقت سب کی شکلیں غربت ظاہر کر رہی ہوتی ہیں۔حج کی بھی یہی صورت ہے سب کے لئے حکم ہے کہ ایک چادر لپیٹ لو اور اس طرح لباس میں تکلفات کوٹ صدری، قمیض ، بنیان و غیرہ اڑ گئیں۔پھر اس چادر کی سلائی کو بھی روک دیا کیونکہ سب فیشن دراصل سلائی سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔صرف ایک کپڑا پہننے کی اجازت ہے اور سب کے لئے یہی حکم ہے۔اسی طرح ہماری شریعت نے دونوں رنگ رکھتے ہیں۔کہیں تو کم خرچ کرنے کو کہا اور کہیں دوسروں کے لئے خرچ کرنے کا حکم دیا ہے۔روپیہ موجود ہے مگر انسان اس کا استعمال نہیں کر سکتا اس لئے کہ اپنے غریب یا نادار بھائی کے مشابہ نظر آسکے یا چیز موجود ہے مگر اللہ تعالی کا حکم ہے کہ دوسرے کو دے دو اور اسی کا نام ملی روح ہے یعنی اپنی طاقتوں کو اور ذرائع کو مقید اور محدود کر دیا جائے اور اس ملی روح کے کمال کا نقطہ یہ ہے کہ انسان کے اندر یہ بات پیدا ہو جائے کہ جہاں میری ذات کا مفاد میری قوم کے مفادت ٹکرائے وہاں قومی مفاد کو مقدم کروں گا اور اپنی ذات کو نظر انداز کر دوں گا اور جب کسی جماعت میں یہ پیدا ہو جائے تو وہ کسی سے ہارتی نہیں۔صحابہ کرام کی حالت ہمارے سامنے ہے۔رسول کریم ملی دلیل اللہ کی ذات کے لئے صحابہ جو قربانیاں کرتے تھے وہ بھی دراصل اسلام کے لئے ہی تھیں کیونکہ وہ آپ کو اسلام کا مکمل نمونہ خیال کرتے تھے اور اس لئے آپ کے مقابلہ میں اپنی