مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 101
101 شخصیتوں کو بالکل نظر انداز کر دیتے تھے۔مذہبی جماعتوں میں تو یہ روح بہت بڑی ہوتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ دنیوی قوموں میں بھی جب یہ بات پیدا ہو جائے تو وہ بہت ترقی کر جاتی ہیں۔آج کل دیکھ او انگلستان میں بھی اور ہندوستان میں بھی یہ موضوع زیر بحث آتا رہتا ہے کہ عورت کا کام کیا ہے۔بڑے بڑے لوگ ہمیشہ اس پر اظہار خیال کرتے رہتے ہیں۔مگر کیا مجال جو کوئی یہ کہنے کی جرات کر سکے کہ عورت کا کام یہ ہے کہ وہ گھر کی چار دیواری میں بیٹھے۔اگر کوئی شخص ایسی بات کہہ دے تو ایک طرف عورتیں اس کے پیچھے پڑ جائیں کی کہ یہ ہماری آزادی کا دشمن ہے اور دوسری طرف اخبارات میں مرد اسے غیر مہذب اور غیر متمدن کہیں گے لیکن جرمنی میں ہٹلر نے کہہ دیا کہ عورت کا کام یہ ہے کہ اپنے گھر میں بیٹھے اور سب نے اسے تسلیم کر لیا۔جو بات یہاں ہندوستان میں جو ایک غلام ملک ہے ، کہنے کی جرات نہیں کرتا وہ ایک آزاد ملک میں کہی گئی اور سب نے اسے بلا چون و چرا تسلیم کر لیا ، حالانکہ یہ ایک ایسا سوال ہے کہ یورپ میں اس کا سمجھنا بالکل ناممکن ہے کہ عورت گھر میں کس طرح رہ سکتی ہے مگر ہٹلر نے جو حکم دیا اسے سب نے تسلیم کیا اور عمل کیا۔اگر چہ کوئی ایسا طبقہ ہو سکتا ہے جو دل سے اس خیال کے ساتھ متفق نہ ہو مگر یہ جرات کسی کو نہیں ہوئی کہ مقابلہ پر آئے۔یہاں بڑے بڑے شہروں مثلا لاہور ، دہلی ، شملہ میں آئے دن عورت مرد کی مساوات کا شور رہتا ہے۔مساوات کے یوں تو سب ہی قائل ہیں مگر یہ کوئی نہیں دیکھتا کہ مساوات ہے کسی معاملہ ہیں۔حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ جموں میں ایک حج اسی موضوع پر ان سے بحث کرنے لگا کہ مرد و عورت میں مساوات ہوئی ہو رہی ہے۔آپ نے فرمایا کہ پچھلی مرتبہ آپ کی بیوی سے لڑ کا ہو ا تھا۔اب کے آپ کے ہو نا چاہئے۔یہ جواب سن کر وہ کہنے لگا کہ میں نے سنا ہوا کروہ تھا مولوی بد تہذیب ہوتے ہیں مگر میں آپ کو ایسا نہ سمجھتا تھا لیکن اب معلوم ہوا کہ آپ بھی ایسے ہی ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اس میں بد تہذیبی کی کوئی بات نہیں۔میں نے تو ایک مثال دی تھی اور آپ کو بتایا تھا کہ جب فطرت نے دونوں کو الگ الگ کاموں کے لئے پیدا کیا ہے تو اس مساوات کے شورت کیا فائدہ ؟ تھی تو یہ سچائی مگر ایسے جنگے طور پر پیش کی گئی کہ اسے بری گئی اور شاید اس کے حالات کے لحاظ سے حضرت خلیفہ اون کے لئے اس کے سوا چارہ نہ ہو۔حقیقت یہ ہے کہ مساوات بے شک ہے مگر دونوں نے کام الگ الک میں اس بات کو پیش کرنے کی کسی کو جرات نہیں ہوتی کیونکہ قومی روح موجود نہیں۔ہر شخص اپنی ذات کو دیکھتا ہے۔اگر عورتوں کے لئے یہ قربانی ہے کہ وہ گھروں میں رہیں تو مرد کے لئے بھی اس کے مقابلہ میں یہ بات ہے کہ میدان جنگ میں جاکر سر کٹوائے۔لیکن چونکہ قومی اور ملی روح موجود نہیں اس لئے ان باتوں کو کوئی پیش کرنے کی جرات نہیں کرتا۔لیس خدام الاحمدیہ اس بات کو اپنے پروگرام میں خاص طور پر ملحوظ بار بار دہرانے کی اہمیت رکھیں کہ قومی اور ریلی روح کا پید اگر نانہایت ضروری ہے۔اصولی پر ہر ایک سے یہ اقرار دیا جائے اور اتے بار بارہ ہرایا جائے۔محض اقرار کافی نہیں ہو تا بلکہ بار بار : هر انا اشد ضروری ہو تاب۔آج علم النفس کے ماہر اس بات پر بڑا زور دیتے ہیں کہ دہرانے سے بات اچھی