مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 86

86 میں قومی روح پیدا ہو اور اسلام کی محبت ان کے قلوب میں موجزن ہو۔شروع شروع میں تو کچھ لوگوں نے میری مخالفت کی یا ان کے اخلاص کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا چاہئے کہ انہوں نے اسے پسند نہ کیا اور کئی سال تک مجلس شوری کے پروگرام سے یہ معاملہ پیچھے ہتا چلا گیا۔مگر آخر جب میں نے زیادہ زور دیا تو اس وقت جماعت میں یہ احساس پیدا ہوا کہ مدرسہ بنات میں اصلاح ہونی چاہئے چنانچہ وہ اصلاح کی گئی اور اس کا نہایت ہی خوشگوار نتیجہ خدا تعالی کے فضل سے اب نظر آنے لگ گیا ہے اور لڑکیوں میں دینی تعلیم بہت حد تک ترقی کر گئی ہے۔بلکہ بعض دفعہ لڑکیوں کے مضامین دیکھ کر مجھے حیرت ہوتی ہے کیونکہ وہ بہت سے لڑکوں کے مضامین سے بھی اچھے ہوتے ہیں۔اگر یہ سلسلہ جاری رہا اور کارکنان نے میری اس سکیم کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کی طرف اپنی زیادہ سے زیادہ توجہ مبذول رکھی تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے نہایت ہی خوشکن نتائج پیدا ہوں گے۔لیکن ابھی تک یہ تعلیم قادیان تک ہی محدود ہے اور بیرون جات کی احمدی لڑکیاں اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتیں۔اس کے لئے ضروری ہے کہ قادیان میں لڑکیوں کے لئے جلد سے جلد ایک بورڈنگ ہاؤس قائم کیا جائے۔جس میں بیرون جات کی لڑکیاں آکر ٹھہر سکیں اور وہ مدرسہ بنات سے دینی تعلیم حاصل کر سکیں۔دوسرے یہ بھی ضروری ہے کہ اس مدرسہ کی بیرون جات میں شاخیں کھولی جائیں تاکہ ان میں بھی انہی اصول پر تعلیم کا سلسلہ جاری ہو جن اصول پر قادیان میں جاری ہے تاکہ وہ اچھی مائیں بہنیں اور اچھی نسلیں پیدا کر کے ان کی احمدیت کے نقطہ نگاہ سے پرورش کر سکیں۔اسی طرح لڑکوں کی تربیت کیلئے میں نے مجلس خدام الاحمدیہ قائم کی ہے۔مجھے خوشی ہے کہ خدا تعالی کے فضل سے یہ جماعت اچھا کام کر رہی ہے۔گو اتنا اچھا نہیں جتنا قومی وسعت کے لحاظ سے ضروری ہے بلکہ اس کا سینکڑواں حصہ بھی نہیں۔ابھی سینکڑوں ایسی جماعتیں ہیں جہاں مجالس خدام الاحمدیہ قائم نہیں اور سینکڑوں کام ہیں جو ابھی انہوں نے کرنے ہیں۔ابھی تک صرف بیسیوں جماعتیں بنی ہیں اور وہ بھی پوری طرح کام نہیں کر رہیں اور جو کر رہی ہیں ، وہ اپنے کام کی اہمیت کو نہیں سمجھیں۔در حقیقت اس وقت تک صرف دس پندرہ جماعتیں ہی ہیں جو اچھا کام کر رہی ہیں۔لیکن بہر حال اس کام کی بنیاد پڑگئی ہے اور جب کسی کام کی بنیاد پڑ جائے تو ضرورت پر اسے زیادہ وسیع بھی کیا جا سکتا ہے۔میں نے پہلے بھی خدام الاحمدیہ کی مضبوطی کیلئے عہدیداران جماعت کے تعاون کی اہمیت توجہ دلائی تھی اور اب پھر جماعتوں کے پریذیڈنٹوں ، سیکرٹریوں اور دوسرے تمام افراد کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ خدام الاحمدیہ کے ساتھ تعاون کریں اور نوجوانوں کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ خدام الاحمدیہ میں شامل ہوں۔اسی طرح مان باپ کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اس میں داخل کریں تا ان کی اچھی تربیت ہو۔جب تک ماں باپ اور جماعتوں کے پریذیڈنٹ اور سیکرٹری اس طرف توجہ نہیں کریں گے۔جب تک وہ خدام الاحمدیہ کو کوئی اور چیز سمجھیں گے اور اپنے آپ کو کوئی اور چیز سمجھیں گے ، اس وقت تک پوری کامیابی نہیں ہو سکتی۔پس ضروری ہے کہ ماں باپ بھی