مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 85
85 ممکن ہے بعض یہ اعتراض شروع کر دیں کہ بھلا تین لڑکیوں کا جنت سے کیا تعلق ؟ اور جو اس حدیث سے لذت بھی پائیں گے وہ اس کی حقیقت پر غور نہیں کریں گے مگر صحابہ جو اس بات کو مشتاق رہا کرتے تھے کہ رسول کریم م لی کی چھوٹی سے چھوٹی بات سے بھی فائدہ اٹھائیں۔انہوں نے جب یہ بات سنی تو وہ جن کی تین لڑکیاں تھیں وہ اس خوشی سے بیتاب ہو گئے کہ وہ ان کی اچھی تربیت کر کے جنت کے حقدار بن جائیں گے مگر وہ جن کی تین لڑکیاں نہیں تھیں بلکہ دو تھیں ان کے چہروں پر افسردگی چھا گئی اور انہوں نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! اگر کسی کی دولڑکیاں ہوں ؟ آپ نے فرمایا۔اگر کسی کی دو لڑکیاں ہوں اور وہ ان دونوں کی اچھی تربیت کرے تو اس کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت واجب ہو جاتی ہے۔جب آپ نے یہ بات فرمائی تو وہ لوگ جن کی صرف ایک لڑکی تھی وہ افسردہ اور تربیت اولاد کی اہمیت مغموم ہو گئے اور انہوں نے کہا۔یا رسول اللہ ! اگر کسی کی دو لڑکیاں نہ ہو بلکہ صرف ایک لڑکی ہو تو وہ کیا کرے ؟ آپ نے فرمایا اگر کسی کی ایک ہی لڑکی ہو اور وہ اسے اچھی تعلیم دے اور اس کی اچھی تربیت کرے تو اس کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت واجب ہو جاتی ہے۔گویا رسول کریم نے اس حدیث کے ذریعہ یہ نکتہ ہم کو بتایا کہ قومی نیکیوں کے تسلسل کو قائم رکھنا انسان کو جنت کا مستحق بنا دیتا ہے۔کیونکہ جو قومی تسلسل قائم رکھتا ہے وہ دنیا میں ہی ایک جنت پیدا کرتا ہے اور یہی قرآن کریم نے بتلایا ہے کہ جسے اس دنیا میں جنت ملی اسے ہی اگلے جہان میں جنت ملے گی۔جو اس جہان میں اندھا رہاوہ اگلے جہان میں بھی اندھا رہے گا۔اور جو اس جہان میں آنکھوں والا ہے وہی اگلے جہان میں بھی بینا آنکھوں والا ہے۔تو جو شخص اپنی لڑکی کی اچھی تربیت کرتا ہے، اس میں دین کی محبت پیدا کرتا اور اسے خدا تعالیٰ کے احکام کا فرمانبردار بناتا ہے وہ ایک لڑکی کی تربیت نہیں کرتا بلکہ ہزاروں نیک اور پاک خاندان پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔پس چونکہ وہ دنیا میں نیکی کا ایک محل تیار کرتا ہے اس لئے اللہ تعالٰی بھی فرماتا ہے کہ چونکہ اس نے اسلام کے مکان کی حفاظت کا سامان مہیا کیا ہے اس لئے میں بھی قیامت کے دن اس کے لئے ایک عمدہ محل تیار کروں گا۔تو اپنی اولادوں کی مسلسل تربیت کو جاری رکھنا ایک اہم سوال ہے لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کی اہمیت اور لڑکوں اور لڑکیوں میں سے لڑکیوں کی تربیت کا سوال زیادہ اہمیت رکھتا ہے مگر چونکہ لڑکیوں نے نوکریاں نہیں کرنی ہو تیں اس لئے بالعموم لوگ ان کی تعلیم و تربیت سے غافل رہتے ہیں یا اگر توجہ بھی کرتے ہیں تو زیادہ توجہ نہیں کرتے۔حالانکہ انہی لڑکیوں نے آئندہ نسلوں کی ماں بنتا ہو تا ہے اور چونکہ یہ کل کو مائیں بننے والی ہوتی ہیں اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ ان کی تعلیم و تربیت کی طرف زیادہ توجہ کی جائے۔اگر مائیں درست ہوں گی تو لڑکے آپ ہی درست ہو جائیں گے اور اگر ماؤں کی اصلاح نہ ہوگی تو لڑکوں کی بھی اصلاح نہیں ہو گی۔اسی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے مدرسہ بنات کی تعلیم کے متعلق خاص طور پر زور دیا تھا اور میں نے کہا تھا کہ اس کے نصاب کو بدل دینا چاہئے اور لڑکیوں کو ایسی تعلیم دینی چاہئے جس کے نتیجہ میں ان