مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 83

83 ہیں۔یہ ایک نہایت عجیب اور لطیف کتاب ہے۔میں مدت سے اس کی تلاش میں تھا مگر مجھے ملتی نہ تھی۔اب تو دو تین سال سے یہ کتاب ہندوستان میں آئی ہوئی ہے مگر اتفاق ہے کہ یہ کتاب مجھے نہ ملی۔اب کے جو میں لا ہو ر گیا تو یہ کتاب مجھے مل گئی اور میں نے اسے پڑھا۔مجھے اس کتاب کے ایک فقرہ سے گو وہ حقیقت کو ذہن میں رکھ کر لکھا گیا معلوم نہیں ہو تا، مجھے بہت ہی مزہ آیا کیونکہ اس میں احمدیت کی طاقت کا اقرار کیا گیا ہے۔ہٹلر اس کتاب میں عیسائیوں کے متعلق لکھتا ہے کہ وہ سخت غلط راستہ پر چل رہے ہیں اور وہ حکومتوں کو اس بات پر مجبور کر رہے ہیں کہ وہ گر جاؤں کے معاملہ میں دخل دیں کیونکہ گر جا کے ارباب عقل سے کام نہیں لے رہے اور خواہ مخواہ حکومتوں کے معاملات میں دخل دے رہے ہیں۔وہ لکھتا ہے میری سمجھ میں نہیں آیا کہ مذہب کو سیاسیات کا ہتھیار کیوں بنایا گیا ہے اور بجائے اس کے کہ وہ مذہب کو مذہب کی حدود میں رکھتے انہوں نے اسے سیاسی قوت کے حصول کا ایک ذریعہ بنالیا ہے اور انہی اغراض کے ماتحت لاکھوں مشنری ایشیا اور افریقہ میں پھیلا رکھے ہیں تاکہ ان کو سیاسی اقتدار حاصل ہو اور اس امر کا خیال نہیں کیا جاتا کہ کروڑوں عیسائی خود یورپ میں دہر یہ ہیں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے انہیں بچے مذہب کی اشاعت کی فکر نہیں بلکہ سیاسی طاقت کے حصول کی فکر ہے۔اگر انہیں یہی خواہش ہوتی کہ لوگوں کو بچے مذہب کا راستہ بتایا جائے تو انہیں چاہئے تھا کہ بجائے غیروں کے وہ اپنوں کی فکر کرتے مگر وہ اپنوں کی تو فکر نہیں کرتے اور دوسروں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مذہب ان کے مد نظر نہیں۔پھر اس کے ساتھ ہی وہ لکھتا ہے کہ گو یہ ایشیا اور افریقہ میں اپنا مذ ہب پھیلانے کی جد و جہد کر رہے ہیں۔مگر ایشیا اور افریقہ میں بھی ان کی کوششیں ناکام ہو رہی ہیں کیونکہ وہاں مسلمان مشنری لوگوں کو اسلام میں واپس لا رہے ہیں اور عیسائی مشنریوں سے زیادہ کامیاب ہیں۔اب وہ مشنری جو اسلام کی صحیح خدمت کر رہے ہیں اور عیسائیوں کا مقابلہ کر کے لوگوں کو پھر اسلام میں واپس لا رہے ہیں سوائے احمدیوں کے اور کون ہیں؟ پس اس فقرہ میں گو احمد یہ جماعت اس کے ذہن میں نہیں۔پھر بھی اس نے جماعت احمدیہ کی طاقت کا اقرار کیا ہے اور وہ لکھتا ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں جو لوگ اسلام کو پھیلا رہے ہیں اور لوگوں کو پھر اسلام میں واپس لا رہے ہیں ان کی جدوجہد کے مقابل پر مسیحی مشنری ناکام ہو رہے ہیں۔تو حق یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ظہور کے بعد جو تسلسل اسلام میں اللہ تعالٰی نے قائم کر دیا ہے اس کا دنیا کے قلوب پر نہایت گہرا اثر ہے۔یا تو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اسلام مٹا اور یا اب یہ سمجھ رہے ہیں کہ اسلام میں دوبارہ زندگی پیدا ہو گئی ہے اور وہ پھر دوسرے مذاہب کا مقابلہ کرنے لگ گیا ہے۔اس عظیم الشان تغیر پر جہاں ہمارا حق ہے کہ ہم خوش ہوں۔وہاں ہمیں یہ امر بھی کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ اگر ہم نے اس تسلسل کو قائم نہ رکھا تو یہ ہماری موت کی علامت ہوگی۔پس ضروری ہے کہ ہم اس تسلسل کو قائم رکھیں۔مصلح انبیاء ہمیشہ فاصلہ فاصلہ پر آیا کرتے ہیں اور یہ کام ان کی امتوں کا ہو تا ہے کہ وہ اپنی اولادوں کی اصلاح