مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 698
698 ہر خادم اپنے رسالہ کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور لکھے گذشتہ سال بیرونی خدام کی تعداد ۴۶۰ تھی۔اس سال ۳۵۱ خدام باہر سے آئے ہیں۔گویا بیرونی خدام کی تعداد میں تمیں فیصد کا فرق پیدا ہو گیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ پچاس کے قریب کالج کے سٹوڈنٹ ہیں جو پہلے بیرونی خدام میں شمار ہوتے تھے مگر اب مقامی خدام میں ان کا شمار کیا گیا ہے۔اگر اس تعداد کو مد نظر رکھا جائے تو پھر بھی باہر سے آنے والے خدام میں انسٹھ کی کمی رہ جاتی ہے لیکن اس دفعہ اطفال باہر سے چھیاسٹھ آئے ہیں۔اگر ان کو بھی ملا لیا جائے تو یہ تعداد پوری ہو جاتی ہے۔لیکن اطفال پچھلے سال بھی الگ شمار ہوئے تھے اور اس سال بھی الگ شمار کئے گئے ہیں اس لیے وہ بیرونی خدام کی تعداد میں شامل نہیں کئے جاسکتے۔بہر حال اس سال بیرونی جماعتوں سے گذشتہ سال کی نسبت کم خدام آئے ہیں۔لیکن مقامی خدام کو ملا کر پچھلے سال کی تعداد ۱۰۶۴ تھی اور اس سال ۱۲۲۴ ہے۔اسی طرح اطفال کی حاضری پچھلے سال ۴۱۰ تھی اور اس سال ۴۳۰ ہے۔یعنی پچھلے سال اطفال اور خدام ملا کر ۱۴۷۳ تعداد تھی اور اس سال ۱۶۵۴ آئے ہیں۔گویا ۱۸۰ کی زیادتی ہوتی ہے۔اگر گذشتہ سال کی طرح جماعتیں حصہ لیتیں تو دو اڑھائی سو کی زیادتی ہو جاتی۔چونکہ بحث وقت پر پاس نہیں ہو سکا تھا اس لئے کچھ وقت اس کے لئے بھی نکالنا پڑا جس کی وجہ سے دیر ہو گئی۔دوسرے میری طبیعت بھی خراب ہے اس لئے لازما مجھے بولنے میں کمی کرنی پڑے گی بہر حال اس وقت بحث پر بحث کرتے ہوئے جو سوالات پیش ہوئے ان میں سے ایک اہم سوال ”خالد “ کی اشاعت کا تھا۔ابھی ہماری جماعت کی جس قسم کی حالت ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے میں زیادہ رسالوں کی اشاعت پسند نہیں کرتا۔کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر رسالے نکلیں اور جماعت کو ان کی اشاعت کی طرف توجہ نہ ہو تو ان کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا لیکن اگر ان رسالوں سے جماعت کے اندر لکھنے کا شوق پیدا ہو جائے اور کوئی کسی رنگ میں لکھے اور کوئی کسی رنگ میں تو یہ بے شک ایک مفید کام ہو سکتا ہے۔جب ” خالد “ کی اشاعت کی تجویز ہوئی تھی تو اس وقت میں نے کہا تھا کہ اگر خدام اس کو چلا سکیں تو بے شک چلالیں لیکن مجھے انشراح نہیں اور آج جو اس کی خریداری کی رپورٹ پیش کی گئی ہے اس سے میرے اس شبہ کی تصدیق ہوتی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں چالیس سال تک کی عمر والے افراد کی تعداد ایک لاکھ کے قریب ہو گی۔ان میں سے اگر عورتوں کو الگ کر دیا جائے تو پچاس ہزار مردرہ جاتے ہیں اور پھر اگر چھوٹی عمر کے لڑکوں کو نکال دو تو پندرہ سے چالیس سال تک کی عمر والے نوجوان ہماری جماعت میں چھپیں ہزار کے قریب ہوں گے۔اب اگر دو فی صدی "خالد" کے خریدار ہوں تو اس رسالہ کی خریداری پانچ سو ہونی