مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 57

57 باتیں سن کر حیران ہو گئیں اور کہنے لگیں یہ بات ہے۔میں نے کہا آپ ان سے پوچھ لیجئے کیا آیا فلاں فلاں مواقع پر میں نے ان کی مدد کی ہے یا نہیں۔اور اب بھی میں ان کے ساتھ خدمت خلق رنگ، نسل، خون مذہب کی تمیز سے بالا ہو کر کرو موقعہ ملنے پر حسن سلوک ہی کرتا ہوں۔مگر انہوں نے پھر ہندوؤں سے پوچھا نہیں۔شاید میری بات پر ہی اعتماد کر لیا یا انہیں پوچھنے کا موقعہ نہ ملا تو حسن سلوک میں کسی مذہب کی قید نہیں ہونی چاہئے اور جو شخص بھی اس قسم کے حسن سلوک میں مذہب کی قید لگاتا اور اپنے ہم مذہبوں کی خدمت کے کام کرنا تو ضروری سمجھتا مگر غیر مذہب والوں کی خدمت کرنا ضروری نہیں سمجھتا وہ اپنا نقصان آپ کرتا ہے اور دنیا میں لڑائی جھگڑے کی روح پیدا کرتا ہے۔پھر جو تبلیغی جماعتیں ہوتی ہیں ان کے لئے تو یہ بہت ہی ضروری تبلیغی جماعتوں کیلئے ایک ضروری امر ہوتا ہے کہ وہ ساری قوموں سے حسن سلوک کریں اور کسی کو بھی اپنے دائرہ احسان سے باہر نہ نکالیں تا تمام قومیں ان کی مداح بنیں۔پس وہ خدمت خلق کے کاموں میں مذہب و ملت کے امتیاز کے بغیر حصہ لیں اور جماعت کے جو اغراض اور مقاصد ہیں ان کو ایسی وفاداری کے ساتھ لے کر کھڑے ہو جائیں کہ خدا تعالیٰ کے راستے میں ان کے لئے اپنی جان قربان کر دینا کوئی دو بھر نہ ہو۔جب کسی قوم کے نوجوانوں میں یہ روح پیدا ہو جائے کہ اپنے قومی اور مذہبی مقاصد کی تکمیل کے لئے جان دے دینا وہ بالکل آسان سمجھنے لگیں اس وقت دنیا کی کوئی طاقت انہیں مار نہیں سکتی۔جس چیز کو مارا جا سکتا ہے وہ جسم ہے۔مگر جس شخص کی روح ایک خاص مقصد لیکر کھڑی ہو جائے اس روح کو کوئی فنا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا، بلکہ ایسی قوم کا اگر ایک شخص مرے تو اس کی جگہ دس پیدا ہو جاتے ہیں۔میں ہمیشہ یہ سمجھا کرتا جسم مر سکتا ہے لیکن اعلیٰ مقصد کو لے کر اٹھنے والی روح نہیں مرسکتی ہوں کہ تھے کھانوں میں جو یہ ذکر آتا ہے کہ فلاں نے ایک دیو مارا تو اس کے خون کے قطروں سے دس دیو اور پیدا ہو گئے۔یہ ذہنی قتل کے نا ممکن ہونے کو ایک تمثیل کے رنگ میں بیان کیا گیا ہے اور اس میں یہی بتایا گیا ہے کہ جب کسی قوم کے ذہن میں راسخ طور پر کوئی نیک عقیدہ پیدا ہو جائے اس وقت اسے کوئی قتل نہیں کر سکتا اور اگر اس قوم کے کسی فرد پر کوئی شخص ہاتھ اٹھاتا ہے اور اسے قتل کرتا ہے تو اس کی موت ایسی شاندار موت ہوتی ہے کہ ہزاروں اس کے قائم مقام پیدا ہو جاتے ہیں۔دنیا میں ہمیشہ یہ نظارہ نظر آیا ہے اور اب بھی یہ نظارہ نظر آسکتا ہے۔بشرطیکہ ہمارے نوجوان یہی روح اپنے اندر پیدا کریں۔پھر نہ انہیں وطن میں کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ غیر ملک میں ان کو کوئی مٹا سکتا ہے کیونکہ وہ اس روح کے نتیجے میں وہی لوگ بن جائیں گے جن کو ؛ ہی دنیا میں خدا تعالیٰ ایسی زندگی دے دیتا ہے جس پر موت نہیں آتی اور ایسی حیات دے دیتا ہے جس پر فناطاری نہیں ہوتی۔چونکہ اب نماز کے بعد