مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 639
639 زندہ قوموں کی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس کے نوجوان اپنے بڑوں کے قائم مقام بننے کی " زندہ قوموں کی یہ علامت ہوا کرتی ہے کہ ان کے نوجواں اس کو شش کوشش میں لگے رہتے ہیں۔میں لگے رہتے ہیں کہ وہ اپنے بڑوں کے قائم مقام بن جائیں۔جس قوم میں یہ بات پیدا ہو جاتی ہے، وہ کبھی نہیں مرتی اور جس قوم کے اندر یہ بات پیدا نہ ہو اس کو کوئی زندہ نہیں رکھ سکتا۔خواہ کتنا ہی زور لگا لو وہ قوم ضرور مرے گی لیکن جس قوم میں یہ خوبی موجود ہو کہ اس کے نوجوان ہمتوں والے ہوں ، بلند ا ر ا دوں والے ہوں ، صحیح کام کرنے والے ہوں تو وہ مرتی نہیں بلکہ بڑھتی چلی جاتی ہے اور خواہ کوئی بھی اسے مٹانا چاہے ، مٹا نہیں سکتا۔ایک دفعہ ایک عباسی بادشاہ نے اپنے دولڑ کے ایک بڑے امام کے پاس پڑھنے کے لئے بٹھائے۔اس امام کا اتنا رعب تھا اور اس نے اپنی قابلیت کا اتنا سکہ بٹھایا ہوا تھا کہ ایک دن جب بادشاہ اس کی ملاقات کے لئے گیا اور امام اس کے استقبال کے لئے اٹھا تو دونوں شہزادے دوڑے کہ وہ اپنے امام کی جوتی اس کے آگے رکھیں۔ایک کی خواہش تھی کہ میں جوتی رکھوں اور اور دوسرے کی خواہش تھی کہ میں جو تی رکھوں۔بادشاہ نے جب یہ نظارہ دیکھاتو کہا کہ تیرے جیسا آدمی کبھی مر نہیں سکتا یعنی جس نے اپنی روحانی اور علمی اولاد کے دل میں اتنا جوش اخلاص پیدا کر دیا ہے اور اتنی علم کی قدر پیدا کر دی ہے اس نے کیا مرنا ہے۔وہ مرے گا تو اور لوگ اس کی جگہ لے لیں گے۔غرض بے ساختہ بادشاہ کے منہ سے یہ فقرہ نکل گیا کہ ایسا آدمی مر نہیں سکتا۔حقیقت یہ ہے کہ انسان تو مرتے چلے آئے ہیں اور مرتے چلے جائیں گے۔قوموں کے لئے دیکھنے والی بات یہ ہوتی ہے کہ ان کے اندر زندگی کی روح پائی جاتی ہے یا نہیں۔اگر وہ کوئی مفید کام کرنا چاہتی ہیں تو ان کا فرض ہو تا ہے کہ وہ نیکیوں کا ایک تسلسل قائم کر دیں۔آدم کے متعاق خدا تعالیٰ نے یہی بات قرآن کریم میں بیان فرمائی ہے کہ اس نے ایک تسلسل قائم کر دیا۔فرماتا ہے خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَبِيرًا وَنِسَاءَ - (النساء:۲) آدم کا کیا کمال تھا۔آدم کا یہی کمال تھا کہ وہ صرف ایک مرد اور ایک عورت تھے مگر پھر بست مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَ نِساء آگے نسل در نسل پیدا ہوئی اور مرد اور عورت اتنی کثرت تے ہوئے کہ یا تو کوئی زمانہ اس دنیا پر ایسا گذرا ہے جب فلسفیوں اور سائنسدانوں کا سب سے بڑا قابل غور مسئلہ یہ ہوا کرتا تھا کہ اس دنیا کو آباد کس طرح کیا جائے اور یا اب وہی دنیا ہے اور فلسفیوں اور سائنسدانوں کے نزدیک سب سے بڑا سوال جو حل کرنے کے قابل ہے ، یہ ہے کہ اس دنیا کی آبادی کو روٹی کہاں سے کھائی جائے۔آج سے دو یا چار ہزار سال پہلے کمیونزم کسی ملک میں پنپ نہیں سکتا تھا لیکن اب کہتے ہیں اس کا مال چھینو اور اس کو دو۔اس کا چھینو اور اس کو دو۔دس ایکٹر زمین جس کے پاس ہے اس سے لے کے دو دو ایکٹر اوروں میں تقسیم کرد، لیکن جب دنیا