مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 620
620 بادشاہ ہونے کے لحاظ سے ایک اچھے بادشاہ تھے۔اخروی لحاظ سے وہ صحابی اور نیک آدمی تھے لیکن خلیفہ نہیں تھے۔ان کے پاس خلافت آئی نہیں۔خلافت دو ہی صورتوں میں ان کے پاس آسکتی تھی۔یا تو خد اتعالیٰ انہیں خلیفہ مقرر کر دیتا یا مسلمان جمهورا نہیں خلیفہ منتخب کر لیتے۔اگر انہیں خلیفہ سمجھا جائے تو سوال پیدا ہو گا کہ ان کے پاس خلافت کہاں سے آئی۔ظاہر ہے کہ نہ تو انہیں خدا تعالیٰ نے خلیفہ مقرر کیا تھا اور نہ جمہور مسلمانوں نے انہیں خلیفتہ منتخب کیا اس لئے وہ خلیفہ نہیں کہلا سکتے۔غرض حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے سوچا کہ دنیاوی بادشاہت تو ایک جسمانی چیز ہے ، روحانی چیز نہیں۔خدا تعالٰی نے مجھے جو روحانی مرتبہ دیا ہے وہ چھوڑ کر میں جسمانی چیز کے پیچھے کیوں پڑوں۔اگر حضرت عبد اللہ بن عمر خلافت کی بجائے اس چیز کے دیکھتے کہ مسلمانوں کی گردنیں کس ہاتھ میں جارہی ہیں تو اس بارہ میں ایثار نہ دکھاتے اور یہ امر مسلمانوں کے لئے یقینا خوش قسمتی کا موجب ہو تا۔دنیا میں یزید کو سب کچھ کہا گیا ہے اور شیعوں نے تو اسے اتنی گالیاں دی ہیں کہ زمین اور آسمان ملا دیا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں۔سب سے بڑی گالی وہ تھی جو خود اس کے بیٹے سے اسے ملی اور وہ اس کا وہ فعل تھا جو اس نے یزید کی وفات کے بعد خلافت قبول نہ کرنے کے بارہ میں کیا۔میرے نزدیک اس کا خلافت کو قبول نہ کرنا ایک بہترین گواہی تھی اس امر پر کہ معاویہ کا یہ فیصلہ غلط تھا کہ یزید باد شاہت کا مستحق ہے۔میں حیران ہوں کہ مسلمانوں نے یزید کے بیٹے کی وہ قدر کیوں نہیں کی جس کا وہ حق دار تھا۔وہ اسلامی شمار کو و تم رکھنے والی اہم ہستیوں میں سے ایک تھا۔یزید کے بعد شاہی خاندان کے افراد نے اسے بادشاہ بنا دیا اور اعلان کر دیا کہ یزید کے بعد اس کا بیٹا خلیفہ ہو گا۔یہ لوگ اگر چہ بادشاہ ہوتے تھے لیکن کہلاتے خلیفہ ہی تھے۔بادشاہ بنانے کے بعد وہ اسے ایک خاص جگہ لے گئے تاوہ اپنی خلافت کا اعلان کرے اور یہ اعلان کر دیا کہ تمام رؤسا اور خاندان کے لوگ اس کی بیعت کریں۔وہ اسے پبلک میں لے آئے اور اسے اعلان کرنے کے لئے کہا۔اس نے منبر پر کھڑے ہو کر جو اعلان کیا وہ یہ تھا کہ اے لوگو !خد اتعالیٰ نے بادشاہت کا حق تمہیں دیا ہے اور اسلام نے بھی تمہیں اختیار دیا ہے کہ جسے چاہو بادشاہ بنالو لیکن ان لوگوں نے مجھ سے پوچھے بغیر یہ رسی میرے گلے میں ڈال دی ہے اور جن کا حق تھا انہیں پوچھا بھی نہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ اس مجلس میں وہ لوگ موجود ہیں جو اپنی ذات میں مجھ سے اچھے ہیں ، جن کے باپ میرے باپ سے اچھے ہیں اور جن کے دادے میرے دادے سے اچھے ہیں۔ان کی موجودگی میں میرا بادشاہت کو قبول کرنا مشکل امر ہے اس لئے میں یہ رسی گلے سے اتار کر پھینکتا ہوں۔تمہاراحق ہے جس کو چاہو بادشاہ بنالو۔اس کی ماں کو جب یہ اطلاع ملی تو اس نے منہ پر تھپڑ مار کر کہا۔کم بخت آج تو نے اپنے باپ دادا کی ناک کاٹ دی ہے۔اس نے اپنی ماں کی طرف دیکھا اور کہا ماں میں نے اپنے باپ دادا کی ناک کائی نہیں بلکہ کئی ہوئی ناک جو ڑ دی ہے۔یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلا گیا اور ایک کمرہ میں داخل ہو گیا اور اس کا دروازہ بند کر لیا۔سارا خاندان اس کا دشمن ہو گیا وہ اس کمرہ سے باہر نہ نکلا یہاں تک کہ چالیس دن کے بعد اس کمرہ میں وہ فوت ہو گیا۔وہ اسلامی تاریخ کا ایک