مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 621
621 شاہکار تھا۔وہ اسلامی تاثیر کا ایک جو ہر تھا جو لوگوں کے دلوں میں گھر کر گیا۔لوگ بادشاہت کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ذلیل ہوتے ہیں لیکن اس نے بادشاہت کو چھوڑا اور ذلیل ہوا۔وہ اس لئے ذلیل ہوا کہ جو مال اس کے باپ نے چرایا ہوا تھا اسے پھینکنے کے لئے اس نے لڑائی کی۔غرض ایثار بہت بڑی چیز ہے اور اس کے بغیر قومیں نہیں بنتیں۔جن لوگوں میں ایثار نہیں پایا جاتا اور وہ ہمیشہ یہ کہتے رہتے ہیں کہ یہ میرا حق تھا۔یہ میرا حق تھا۔وہ اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔ایسے لوگ قوم نہیں بناتے۔قوم وہ لوگ بناتے ہیں جنہیں یقین ہو جاتا ہے کہ یہ ہمارا حق ہے لیکن پھر بھی اپنا حق دوسرے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں مگر یاد رکھو کہ عزت نفس بھی ضروری چیز ہے۔دوسرے کے سامنے لجاجت کرنا اور اس کی منت خوشامد کرنا نیکی پیدا نہیں کرتا۔نیکی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دشمن دیکھتا ہے کہ ہم میں غیرت موجود ہے اور غیرت کی وجہ سے ہم اس کے سامنے جھکنے کے لئے تیار نہیں لیکن پھر بھی ہم اپنا حق چھوڑ دیتے ہیں۔اس سے وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا لیکن اگر تم اصرار کرتے ہو تو وہ سمجھے گا یہ ایثار نہیں بلکہ اس میں اس کا کوئی فائدہ مخفی ہے۔چوتھی چیز اخلاق میں مطمح نظر کا اونچا کرنا اور اسے اونچا کرتے چلے جانا ہے۔جب کبھی انسان کسی کام کے لئے اٹھتا ہے تو اس کی دو حالتیں ہوتی ہیں۔یا تو وہ کامیاب ہوتا ہے یا نا کام ہوتا ہے۔جب وہ ناکام ہو تا ہے تو اس کا کام باقی ہوتا ہے اور وہ اس کو پورا کرنے کے لئے دوبارہ کوشش کرتا ہے۔اگر وہ پھر نا کام ہوتا ہے تو وہ سہ بارہ کوشش کرتا ہے لیکن اگر وہ کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ اپنی جگہ پر پہنچ جاتا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ساکن ہو جاتا ہے اور جب وہ ساکن ہو جاتا ہے تو تنزل کی طرف چلا جاتا ہے گویا جو فیل ہو جاتا ہے وہ تو کوشش کرتا ہے تادوبارہ کامیاب ہو سکے لیکن جو کامیاب ہو جاتا ہے وہ ساکن ہو جاتا ہے اس لئے کہ اس کے سامنے تنگ و دو کا میدان نہیں رہتا۔اسلام اسے جائز قرار نہیں دیتا۔اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے غیر متناہی ترقیات کا سلسلہ کھلا رکھا ہے اور جب اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے غیر متناہی ترقیات کا سلسلہ کھلا رکھا ہے تو کوئی ترقی ایسی نہیں ہو سکتی جس کے آگے ترقی کرنے کا مقام نہ ہو۔انسان کو ہمیشہ اپنا پر وگرام بدلتے رہنا چاہئے۔جو ہڑ کے پانی کی طرح ساکن ہو جانا قوم کے لئے مفید نہیں ہو تا۔کھڑا پانی سڑ جاتا ہے اور اس میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے اسی طرح اگر کسی قوم کے افراد ایک جگہ پر پہنچ کر ساکن ہو جاتے تو وہ قوم ترقی نہیں کر سکتی۔پس مطمح نظر کا اونچا کرتے چلے جانا قومی ترقی کے لئے نہایت اہم ہے۔حضرت عمر فرماتے ہیں۔نیہ الـمـومـن خـيـر مـن عـمـلـه ـ مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہوتی ہے۔یہ ایک چھوٹا سا فقرہ ہے لیکن اپنے اندر ایک بہت بڑا مد عالئے ہوئے ہے۔مومن کی نیت ہمیشہ اس کے عمل سے بہتر ہو گی۔اس کے دو معنے ہو سکتے ہیں۔ایک یہ کہ انسان کی نیت بھی اچھی ہو اور اس کے اعمال بھی اچھے ہوں لیکن اس کا ارادہ یہ ہو کہ وہ پہلے سے بڑھ کر نیک اعمال کرے گا۔دوسرے یہ کہ اس کی نیت اچھی ہو لیکن اعمال برے ہوں اور ارادہ یہ ہو کہ وہ اپنی اصلاح کرے گا اور پھر جوں جوں وہ کام کرتا جائے ، اپنی نیت کو بھی بلند کرتا جائے۔جب وہ ایک روزہ رکھتا ہے تو