مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 618
618 میدان میں کو دو گے۔جنگ میں پندرہ سولہ سال کا ایک ریکروٹ لیا جاتا ہے لیکن ہمار ا نوجوان پچیس تیس سال کی عمر میں جا کر اگر سپاہی بنے گا تو اس نے لڑنا کیا ہے۔تیسری چیز ایثار ہے۔پہلی دو چیزیں ایسی تھیں جو زاتی خوبیاں تھیں لیکن جب قومی طور پر کام کرنا پڑتا ہے اس وقت اگر وہ ایسا نہ بنے کہ ارد گرد کے لوگوں کے ساتھ مل کر کام کر سکے تو اس کے لئے دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنا نا ممکن ہو جاتا ہے اور وہ قوم کے لئے مفید وجود نہیں بن سکتا۔اگر گاڑی کے دو گھوڑے اکٹھا زور نہ لگا ئیں بلکہ ان میں سے ایک ایک طرف زور لگائے اور دوسرا دوسری طرف تو گاڑی چل نہیں سکتی بلکہ گازی ٹوٹ جائے گی۔گاڑی کو چلانے کے لئے ضروری ہے کہ دونوں جانور ایک ساتھ زور لگا ئیں اور پھر ایک ہی سمت کو چلیں۔اسی طرح وہی افراد قومی حصہ بن سکتے ہیں جن کے اندر قومی کیریکٹ پایا جائے اور بہترین قومی کیریکٹر ایثار ہے۔ایثار کے معنی ہیں دوسروں کو اپنے اوپر مقدم کرنا۔جب کسی قوم کے افراد دو سروں کو اپنے اوپر مقدم کرنے لگ جاتے ہیں تو وہ قوم کے لئے مفید وجود بن جاتے ہیں اور جب کوئی فرد صرف اپنے حق کے حصول میں لگا ر ہے اور دوسرے کے لئے اپنے حق کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہو تو وہ قوم کے لئے مفید وجود نہیں بن سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ ایثار استعمال کر کے مسلمانوں کو ایک غیر متناہی جھگڑے سے بچالیا ہے۔اگر آپ یہ فرماتے کہ تم دوسروں کا حق نہ مارو ہاں اپنے حق کو حاصل کرنے کے لئے ہمیشہ کوشش کر و تو بہت سے لوگ لوٹ کھسوٹ کا نام ہی حق سمجھ لیتے اور کہتے کہ یہ ہمارا حق ہے اس لئے ہم اسے حاصل کر کے رہیں گے اور ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی ہوشیاری سے دوسرے کا حق مار لیتے۔ایک جلسہ پر میں نماز پڑھانے لگا۔عموما لوگوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ نماز میں میرے ساتھ کھڑے ہوں۔سیٹھ غلام غوث صاحب مرحوم جو حید ر آباد دکن کے رہنے والے تھے ، نہایت مخلص احمدی تھے۔ان کے بیٹے سیٹھ محمد اعظم صاحب بھی نہایت مخلص نوجوان ہیں اور جماعت حیدر آباد دکن کے سیکرٹری مال ہیں۔سارا خاندان ہی مخلص ہے۔ان کا وطن قادیان سے ہزار بارہ سو میل کے فاصلہ پر ہے۔وہ جب جلسہ پر آتے تو نماز میں میرے ساتھ کھڑے ہوتے تاکہ انہیں دعائیں کرنے کا زیادہ موقعہ مل سکے۔اس جلسہ کے موقعہ پر بھی وہ میرے ساتھ کھڑے تھے کہ گجرات کے ایک احمدی آگے بڑھے اور انہیں پیچھے دھکیل کر کہنے لگے ، آپ لوگوں کو تو یہ موقعہ روز ملتا ہے ، ہم لوگ دور سے آتے ہیں ، ہمیں بھی حضور کے ساتھ کھڑا ہونے کا موقعہ دیں۔اب گجرات قادیان سے ستر ای میل پر واقع ہے اور حیدر آباد دکن اور قادیان کے درمیان ہزار بارہ سو میل کا فاصلہ ہے لیکن انہوں نے بغیر تحقیقات کے اسے اپنا حق سمجھ لیا۔پس اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے کہ اپنا حق کو دوسرے کا حق نہ لو تو سارے لوگ یہی کہتے کہ یہ حق ہمارا ہے۔اس لئے آپ نے فرمایا، دوسرے کے لئے اپنا حق قربان کر دیا کرو اور جب اکثر لوگ ایثار کریں گے تو وہ ظلم سے بچے رہیں گے۔سو میں سے ایک آدھ آدمی ایسا ہو گا جس کو اپنا حق دوسرے کے لئے چھوڑنا پڑے۔باقی سب ایسے ہی ہوں گے جن کا حق نہیں ہو گا اور وہ دوسرے کا حق غصب کرنے سے بچ جائیں گے۔قوم