مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 488
488 رکھتا جاتا۔آخر جب تمام چیزیں رکھ چکا تو مجھے ایک اور مذاق سو جھا۔ہم سے گز بھر ایک کو نہ میں چھتری پڑی تھی۔میں نے بچپن کی شرارت میں جان بوجھ کر اسے کہا کہ چھتری تو پکڑا دو۔اس پر اس نے فور آہاتھ آگے کر دیا اور کہا لاؤ پونسہ۔ہم نے پیسہ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا اور وہ چھتری اٹھا کر بر آمدہ میں لے گیا۔یوں تو ہم خود بھی چھتری اٹھا سکتے تھے مگر اس وقت ہم نے بذاقاً اسے چھتری اٹھانے کو بھی کہہ دیا جس پر اس نے نہایت بے تکلفی سے کہالاؤ پونسہ اور جب ہم نے پیسہ دیا تب اس نے چھتری کو ہاتھ لگایا۔تمہارا معاملہ بھی خدا تعالیٰ سے اسی قسم کا ہے۔اگر تم بھی ہر بات پر یہی کہتے رہو کہ لاؤ پونسہ اور تم ایک کشمیری مزدور کی طرح لاپونسہ کہنے کے عادی بن جاؤ تو وہ بھی تمہیں مزدور ہی رکھے گا۔کیونکہ تم بات کشمیری مزدور والی کرتے ہو اور امید یہ رکھتے ہو کہ تم سے خدا تعالیٰ وہ سلوک کرے جو اس نے محمد رسول اللہ صلی یم اور آپ کے صحابہ کے ساتھ کیا حالانکہ لا پونسہ کہنے والے سے تو مزدور کا ہی سلوک کیا جائے گا۔بادشاہ کا سلوک ای سے کیا جاتا ہے جو اپنی ہر چیز قربان کر دیتا ہے۔جو اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں کلی طور پر فنا کر دیتا ہے اور اس سے کسی قسم کا مطالبہ نہیں کرتا تب اس کا آقا کہتا ہے اس نے اپنے آپ کو میرے لئے فنا کر دیا۔اب یہ مجھ سے جدا نہیں رہا تب جیسے بیٹا اپنے باپ کا وارث ہو تا ہے ، اللہ تعالیٰ بھی دنیا اس کے سپرد کر دیتا ہے۔یہ کام ہے جو تم نے کرنا ہے۔جب تک تم یہ کام نہیں کرتے۔جب تک تمہارے اندر ایسی خلش پیدا نہیں ہوتی جو رات اور دن تمہیں بے تاب رکھے اور تمہیں کسی پہلو پر بھی قرار نہ آنے دے اس وقت تک تم اس مقام کو حاصل نہیں کر سکتے جو صحابہ نے حاصل کیا۔ابھی ہماری ترقی ہے ہی کیا چیز ؟ چار ہزار آدمیوں کا سال بھر میں ہم میں شامل ہو جانا اور ہر سال دس ہیں لاکھ روپے کا آجانا۔سر دست ہماری ترقی صرف اسی حد تک ہے۔مگر کیا اتنے سے کام سے دنیا میں وہ روحانی تغیر پیدا کیا جاسکتا ہے جس تغیر کو پیدا کرنا اللہ تعالیٰ نے ہمارے سپرد کیا ہے۔یہ تغیر اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتا جب تک لاکھوں لاکھ آدمی ہماری جماعت میں شامل نہیں ہو تا۔مگر سوال یہ ہے کہ آخر لاکھوں لاکھ آدمی کیوں ہماری جماعت میں شامل نہیں ہو تا۔اسی لئے کہ دنیا تمہاری طرف دیکھ کر کہتی ہے کہ ہم میں اور ان میں کوئی فرق نہیں اور چونکہ دشمن اپنے مخالف کو ہر بات میں نیچا بتانے کا عادی ہو تا ہے۔جب اسے تم میں اور ان میں کوئی فرق نظر نہیں آتا تو کچھ شریف الطبع لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ ہم میں اور ان میں کوئی فرق نہیں اور کچھ لوگ جو غیر شریفانہ رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں وہ کہتے ہیں یہ لوگ ہم سے بھی زیادہ گندے ہیں اور اس طرح دشمن برابری کو بھی نچلا درجہ دے دیتا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ جو چیزیں تمہیں ملی ہیں وہ ان کو نہیں ملیں۔اگر ان کے ہوتے ہوئے تم ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو یقینا تم ان سے نچلے درجہ پر ہو۔ایک شخص جس کے پاس ہزار روپیہ ہے ، وہ اگر خست سے روٹی کھاتا ہے اور ایک دوسرا شخص جسے صرف ایک وقت کی روٹی ملتی ہے وہ بغیر نخست کے اسے استعمال کرتا ہے تو وہ اگر یہ کہے کہ ہزار روپیہ رکھنے والا مجھ سے زیادہ ذلیل ہے تو وہ ایسا کہنے میں حق بجانب ہو گا کیونکہ اس کا فاقہ مجبوری کی وجہ سے ہو گا اور اس کا فاقہ خساست اور دنائت کی وجہ سے ہو گا۔پس جب تک تم