مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 487
487 مگر یہ درخت تو بہت دیر کے بعد پھل لائے گا اور تم اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکو گے۔پھر ایسا درخت تم کیوں بو رہے ہو۔بڑھے نے کہا بادشاہ سلامت! آپ نے یہ کیا کہہ دیا۔آپ تو بڑے عقلمند اور دوراندیش انسان ہیں۔اگر پہلے لوگ بھی اسی خیال میں مبتلا رہتے کہ جب ہم نے پھل نہیں کھانا تو ہم درخت کیوں لگائیں اور وہ اس خیال کے ماتحت درخت نہ لگاتے تو آج ہم کہاں سے پھل کھاتے۔انہوں نے درخت لگائے تو ہم نے پھل کھائے۔اب ہم درخت لگائیں گے اور ہماری آئندہ نسلیں اس کا پھل کھا ئیں گی۔بادشاہ کو اس کی یہ بات بہت پسند آئی اور اس نے کہا زہ۔یعنی کیا ہی خوب بات کی ہے۔بادشاہ نے یہ حکم دیا ہوا تھا کہ جب میں کسی کی بات پر خوش ہو کر زہ کہوں تو اسے فورا تین ہزار کی تحصیلی انعام کے طور پر دے دی جایا کرے۔جب بادشاہ نے کہا زہ تو خزانچی نے فوراً تین ہزار کی ایک تھیلی بڑھے کے سامنے رکھ دی۔بڑھے نے تھیلی اٹھائی اور کہا بادشاہ سلامت آپ تو کہتے تھے کہ تو اس درخت کا پھل نہیں کھائے گا۔دیکھئے لوگ درخت لگاتے ہیں تو کہیں دیر کے بعد اس کا پھل کھانا انہیں نصیب ہوتا ہے لیکن میں تو ابھی درخت لگا ہی رہا ہوں کہ میں نے اس کا پھل کھالیا۔بادشاہ نے یہ سن کر پھر کہا زہ اور خزانچی نے تین ہزار کی ایک اور تھیلی اس کے سامنے رکھ دی۔اس پر وہ بڑھا پھر بولا اور اس نے کہا بادشاہ سلامت! لوگ تو سال میں صرف ایک دفعہ پھل کھاتے ہیں لیکن میں نے تو ابھی لگاتے لگاتے اس کا دو دفعہ پھل کھالیا ہے۔اس پر بادشاہ کے منہ سے پھر نکلا زہ اور خزانچی نے فورا تین ہزار کی ایک تیسری تھیلی اس کے سامنے رکھ دی۔یہ دیکھ کر بادشاہ ہنس پڑا اور اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا چلو یہاں سے ورنہ یہ بڑھا ہمارا سارا خزانہ لوٹ لے گا۔تو یہ بات ہے کہ تم تو بیج لگاؤ گے تو پھل کھاؤ گے مگر تم بیج لگانے میں آتے ہی نہیں۔تم میں سے بعض کی ذہنیتیں وہی ہیں جو لیبر یا لبرل پارٹیوں کی ہیں یعنی یہ کہ پہلے خدا ہمیں دے پھر ہم سے کام لے حالا نکہ خدا اس قوم کو اپنے انعامات دیا کرتا ہے جو اپنے نفوس کو اس کی راہ میں قربان کر دیا کرتی ہے اور اس بات کی پرواہ نہیں کیا کرتی کہ اسے کیا ملا؟ مجھے یاد ہے میں ایک دفعہ کشمیر گیا۔کشمیری ایک خاص فن میں مشہور ہیں جس کی میں اس وقت مذمت کر رہا ہوں یعنی یہ بات ان کی عادت میں داخل ہے کہ ان کا دست سوال ہمیشہ دراز رہتا ہے۔ان دنوں موٹریں نہیں ہوتی تھیں۔کشمیر تک یکوں میں سفر کیا جاتا تھا۔ایک منزل پر ہم ٹھہرے تو بارش آگئی اور ہمیں اسباب کو اندر رکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔مولوی سید سرور شاہ صاحب بطو را تالیق ہمارے ساتھ تھے اور میر محمد اسحاق صاحب ، میاں بشیر احمد صاحب اور میں تینوں ان کی اتالیقی میں کشمیر کی سیر کے لئے گئے تھے۔یہ حضرت خلیفہ اول کی خلافت کے دوسرے سال کا واقعہ ہے۔جب بارش آئی تو ہم نے ایک کشمیری مزدور کو بلایا اور اسے کہا سامان یہاں سے اٹھا کر بر آمدہ میں رکھ دو۔وہ کھڑا ہو کر کہنے لگا کہ ایک ایک چیز کا ایک ایک پیسہ لوں گا۔لیکن پہلے پیسہ لوں گا اور پھر کوئی چیز اٹھاؤں گا۔بچپن کی عمر کے لحاظ سے اس وقت ہمیں مذاق سو جھا۔ہم ایک پیسہ اس کے ہاتھ پر رکھ دیتے اور وہ ایک چیز اٹھا کر برآمدہ میں رکھ دیتا۔پھر واپس آتا اور ایک پیسہ لے کر دوسری چیز اٹھاتا اور اسے برآمدہ میں رکھ آتا۔اسی طرح ہر دفعہ ایک پیسہ لیتا جاتا اور چیزیں اٹھا اٹھا کر اندر