مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 481 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 481

481 شاندار ہے اور دشمن پر اس کا اثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔لیکن اگر ہم مساجد میں جائیں اور دیکھیں کہ تمام نمازی لیٹے ہوئے ہیں۔کوئی انگلی کے اشارہ سے نماز پڑھ رہا ہے۔کوئی محض آنکھوں کی حرکت دے کر ہی فریضہ نماز ادا کر رہا ہے اور کوئی دل میں نماز کے کلمات پڑھ رہا ہے تو کیا اس نظارہ کے بعد تم دنیا کی کسی قوم کے سامنے بھی سر اونچا کر سکتے ہو۔کیا تمہار ا سینہ اس نظارہ کو دیکھ کر فخر سے تن سکتا ہے۔یا کیا دشمن کے سامنے تم اپنی گردن اونچی کرسکتے ہو۔ہر شخص تمہاری طرف حقارت کی نگاہ سے دیکھے گا اور کہے گا تمہاری قوم مریضوں کی قوم ہے۔تمہاری قوم قدم قدم در گور لوگوں کی قوم ہے۔یہ آج مری یا کل۔اس نے بھلا دنیا میں کیا تغیر پیدا کرنا ہے۔اب دیکھ لو وہی چیز جو استثنائی صورت میں ہمارے لئے عزت کا موجب ہو سکتی ہے عام حالات میں ہمارے لئے نہایت ہی ذلت اور شرمندگی کا موجب بن جائے گی اور ہم آنکھیں اٹھا کر چلنے کے قابل بھی نہیں رہیں گے۔پس یہ صحیح ہے که عرفت کرتی بفسخ العزائم۔ہم نے اپنے رب کو فتح عزائم سے ہی دیکھا ہے لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ ہمارے فسخ عزائم کی اب اتنی کثرت ہو گئی ہے کہ حضرت علی نے تو کہا تھا عَرَفْتُ رَبِّي بِفَشَحَ الْعَزائِم لیکن ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ نسيت ربي بفسخ العزائم میں نے اپنے عزائم کو تو ڑ تو ڑ کر اپنے خدا کو بالکل بھلا دیا ہے۔اگر میرے اندر اپنے عزائم کو پورا کرنے کی کوئی بھی نیت ہوتی تو میں اپنے ارادوں کو اتنا نہ تو ڑتا بلکہ خدا تعالی کے خوف اور اس کے تقویٰ سے متاثر ہو کر کچھ نہ کچھ اپنے عزائم کو پورا کرنے کی کوشش کرتا۔میں سمجھتا ہوں اگر کوئی شخص اپنا پورا زور لگا کر کسی بات پر عمل کرتا ہے تب بے شک اس کا حق ہو تا ہے کہ وہ کسے مجبوری اور پابندی فلاں کام میں روک بن گئی ہے لیکن ابھی تک ایسا کام کرتے ہوئے ہم نے خدام کو نہیں دیکھا کہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ اس کے بعد واقعہ میں ان کے لئے مزید کام کرنے میں کوئی مجبوری اور معذوری حائل تھی۔میں یہ سمجھتا ہوں یہاں کوئی ایک شخص بھی کھڑے ہو کر نہیں کہہ سکتا کہ اس نے ایک ہفتہ بھی خدام کو ایسے رنگ میں کام کرتے دیکھا ہے کہ اس کے بعد ان سے کسی اور کام کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا اور اگر کیا جائے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ انسان نہیں بلکہ فرشتے ہیں۔اس وقت تمہارے ماں باپ یہاں بیٹھے ہیں۔تمہارے بڑے بھائی یہاں بیٹھے ہیں۔تمہارے بزرگ اور رشتہ دار یہاں بیٹھے ہیں۔کیا وہ قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بیٹوں اور اپنے بھائیوں کو اتنا کام کرتے دیکھا ہے کہ اس سے زیادہ کام کرنے کی ان سے امید کرنا حماقت اور نادانی ہے۔اگر ایسا ہو تو پھر بے شک فسخ عزائم بھی تمہارے لئے ایک زیور بن جائے گا جو تمہارے لئے زینت اور حضرت علی کے قول کے مطابق خدا تعالیٰ کی شناخت کا ایک ذریعہ ہو گا لیکن اگر تم نے اتنی جد و جہد بھی نہیں کی جتنی جد وجہد یورپین اقوام اپنے دنیوی مقاصد کے لئے کر رہی ہیں تو تمہارا فتح عزائم کو پابندی اور مجبوری کا نتیجہ سمجھنا اللہ تعالیٰ کے قانون کی بنک ہے۔لوگ کہتے ہیں اس ملک میں ملیریا بہت ہے اور اسی کے زہر کا یہ نتیجہ ہے کہ طبائع میں جمود اور تکاسل پایا جاتا ہے۔لیکن اگر یہ درست ہو تب بھی اس حالت کو بدلنا ہمارا فرض ہے۔اگر ہم نے دنیا میں کوئی نیک تبدیلی پیدا کرنی ہے تو یقیناً ہمارا فرض ہے کہ ہم اس امر کو ہمیشہ ملحوظ رکھیں کہ وہ چیز جو ہمارے بڑوں