مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 482
482 سستی کا موجب ہوئی تھی وہ آئندہ نئی نسل میں پیدا نہ ہو۔اگر نئی نسل میں پہلوں سے زیادہ سستی پیدا ہوتی ہے تو یقینا یہ چیز ہمارے لئے فخر کا موجب نہیں ہو سکتی نہ اس بستی کے نتیجہ میں ہمارا کام صحیح طور پر ہو سکتا ہے اور نہ ہم اپنی تنظیم کے اعلیٰ ہونے کا دعوی کر سکتے ہیں کیونکہ تنظیم وہی کامیاب ہوتی ہے جس کی اگلی کڑی پہلی کڑی سے زیادہ مضبوط ہو اور جس کے نتیجہ میں آئندہ نسل پہلوں سے زیادہ فرض شناس اور کام کرنے والی ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں اسی ملیریا زدہ ہندوستان کے اندر فاقہ میں اپنے اوقات بسر کرنے والے اور بہت کم خوراک استعمال کرنے والے لوگ ہماری جماعت میں پائے جاتے تھے مگر ان کے اخلاص اور ان کی قربانی اور ان کی مستعدی اور ان کی جانفشانی کی یہ حالت تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان سے کوئی حکم سنتے تو وہ راتوں رات بٹالہ یا گورداسپور یا امر تسر پہنچ جاتے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حکم کی تعمیل کر کے واپس آتے۔اب بجائے اس کے کہ ہمیں ترقی ہوتی ، ہمیں اس میں تنزل کے آثار نظر آرہے ہیں۔حالانکہ چاہئے یہ تھا کہ پہلے اگر سلسلہ کا کام پیش آنے پر ہماری جماعت کے لوگ پیدل بٹالہ امر تسر اور گورداسپور پہنچ جاتے تھے تو آج کل کے خدام لاہور گجرات اور پشاور جانے کیلئے تیار ہو جاتے۔تب ہم سمجھتے کہ یہ چیز ہمارے لئے خوشی کا موجب ہے اور ہماری بیماری کو آئندہ نسل نے اپنے جسم میں سے دور کر دیا ہے ، آئندہ نسل پہلے سے بہتر پید اہورہی ہے اگلی اس سے بہتر پیدا ہو گی یہاں تک کہ رفتہ رفتہ ہمارے اندر اتنی طاقت پیدا ہو جائے گی کہ ہم کام کی صلاحیت کے لحاظ سے یورپین اقوام کا مقابلہ کر سکیں گے۔لیکن اگر یہ بات ہمیں نصیب نہیں اور اگر ہم کم سے کم کام کر سکتے ہیں تو یہ ہمارے لئے موت کی علامت ہے۔ہمارے لئے رونے کا مقام ہے خوشی اور مسرت کا نہیں۔یہ چیز ہے جو خدام الاحمدیہ سے تعلق رکھتی ہے اور یہ چیز ہے جو خدام الاحمدیہ کو اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے۔باقی جلسے کرنا، تقریر میں کرنا اور کچھ شعر و غیرہ پڑھ دینا کوئی چیز نہیں۔جیسے ثاقب صاحب نے ابھی نظم پڑھی ہے مگر نہ اس سے ثاقب صاحب کا دل ہلا نہ سننے والوں کا دل ہلا اور نہ واہ واہ اور سبحان اللہ کا شور بلند ہوا۔پرانے زمانے میں کم سے کم اتنی بات تو تھی کہ خواہ بناوٹ اور تکلف سے ہی سہی بہر حال جب ایک شاعر