مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 433
433 کام ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر خدام اس کام کو کریں تو وہ قادیان کے لوگوں کو بہت سی تکالیف اور بیماریوں سے بچانے والے ہوں گے۔پس اس کام کی طرف خدام کو خاص طور پر توجہ کرنی چاہئے۔اس کے علاوہ ہر محلہ میں جو یتامی بیوگان اور مساکین ہوں ، ان سب کی خبر گیری کی جائے۔اگر خدمت خلق انہیں طبی امداد کی ضرورت ہو تو طبی امداد بہم پہنچائی جائے یا ان کا کوئی اور کام ہو تو وہ کیا جائے۔اسی طرح وہ لوگ جو فوج میں جاچکے ہیں اور ان کے گھروں میں کوئی سودا سلف لا کر دینے والا نہیں ، ان کا بھی خیال رکھا جائے اور اگر ان گھروں میں کوئی بیمار ہو تو اسے دوائی لا کر دی جائے۔میں نے دیکھا ہے بعض غریب عورتیں ایک دفعہ اپنا زیور بیچ کر معمولی سا گزارہ کے لئے مکان تو بنالیتی ہیں لیکن اس کے بعد ان میں طاقت نہیں ہوتی کہ مزدور لگا کر مکان کی لپائی کرا سکیں اور ان کے گھر میں کوئی مرد بھی نہیں ہو تا جو لپائی کا انتظام کر سکے۔اس طرح وہ گھر گرنے شروع ہو جاتے ہیں اور ان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ پہچانے بھی نہیں جاتے۔ایسے گھروں میں خدام جائیں ، ان کی دیواروں اور چھتوں کی لپائی کریں۔یہ ایک ایسا کام ہے جو ہر دیکھنے والے کے دل پر اثر کرتا ہے۔قومی کاموں میں جہاں ہزاروں انسان کام کر رہے ہوں کوئی انسان بھی بہتک محسوس نہیں کرتا۔کیونکہ اس کے دو سرے ساتھی اس کے ساتھ کام کر رہے ہوتے ہیں لیکن انفرادی کاموں کے کرنے میں انسان ہتک محسوس کرتا ہے۔میرا مقصد وقار عمل سے یہی تھا کہ قومی کاموں کے علاوہ جہاں تک ہو سکے ، خدام انفرادی کام بھی کریں اور غریبوں ، یتیموں اور بیواؤں کے کام کرنے میں عار محسوس نہ کریں۔انفرادی کاموں کی نوعیت بدلتی رہتی ہے اور وہ روزانہ ضروریات کے مطابق تدریجا گھٹائے یا بڑھائے جا سکتے ہیں۔اطفال الاحمدیہ کے کام کے متعلق مجھے زیادہ علم نہیں کہ کسی طور پر محلوں میں ان کی تربیت کا کام اطفال احمدیہ جاری ہے اور کس رنگ میں ان کی تعلیم و تربیت کی جاتی ہے۔میرے خیال میں وقتا فوقتا اطفال کے سامنے اخلاق کے متعلق تفصیلا بحث آتی رہنی اخلاق کی تفصیلات چاہئے اور انہیں بتانا چاہئے کہ کون کون سے اعمال ہیں جو آج کل عام ہیں اور وہ در حقیقت اسلامی نقطۂ نگاہ سے برے ہیں اور کون سے اعمال ہیں جو برے سمجھے جاتے ہیں اور وہ در حقیقت اسلامی نقطۂ نگاہ کے مطابق ہیں۔اس کے علاوہ چھوٹی چھوٹی کتابیں اور رسالے اسلامی اخلاق کے متعلق لکھے جائیں۔اخلاق کے متعلق یہ یاد رکھنا چاہئے کہ وہ بھی حالات کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔ممکن ہے کہ بعض اعمال پہلے برے ہوں اور آج اچھے ہوں یا پہلے اچھے سمجھے جاتے ہوں اور آج برے ہوں۔اس بات کا پتہ لگانے کے لئے کہ کن حالات میں کون سے اعمال اچھے اور کون سے برے ہوتے ہیں ، اصولی اعمال کا جاننا ضروری ہوتا ہے۔جیسے قرآن کریم میں چار چیزیں حرام قرار دی گئی ہیں۔باقی چیزیں جتنی ان کے مشابہ ہوتی جائیں گی اتنی اتنی ان میں حرمت قائم ہوتی جائے گی۔حرمت کا کامل نمونہ وہی چار چیزیں ہیں۔ان کی حرمت بلا واسطہ ہے اور یہ چاروں