مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 434

434 چیزیں آئیڈیل (Ideal ہیں یعنی باقی چیزوں کے متعلق ان سے اندازہ کیا جاسکتا ہے۔جیسے ماڈل سکول ہوتے ہیں، وہ معیاری ہوتے ہیں باقی سکولوں کے لئے اور باقی سکول ان کی نقل کرتے ہیں اور ان سے مشابہت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ صرف وہ چار چیزیں ہی حرام ہیں اور باقی چیزوں میں سے کوئی خرام نہیں بلکہ باقی چیزوں کی حرمت بالواسطہ ہے یعنی جتنی جتنی ان حرام چیزوں سے ان کی مشابہت قائم ہوتی جائے گی اتنی اتنی زیادہ حرمت ان میں قائم ہوتی جائے گی اور جتنی ان کی مشابہت میں کمی ہو گی اتنی ہی حرمت میں کمی ہوتی جائے گی۔اسی وجہ سے بعض چیزوں کے متعلق ہم کہتے ہیں کہ یہ ممنوع ہیں اور بعض کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ مشتبہ ہیں اور بعض کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ جائز ہیں۔قرآن کریم میں خنزیر کے کھانے کی حرمت بیان کی گئی ہے مگر جس طرح مجبوری کی حالت میں خنزیر کا گوشت کھایا جا سکتا ہے اسی طرح ایک عورت مجبوری کی حالت میں ڈاکٹر کے سامنے ننگی بھی ہو سکتی ہے بشرطیکہ ڈاکٹر کے لئے اسے ننگا کرنا ضروری ہو مگر اس مجبوری کی حالت کو دیکھ کر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ عورت کے جسم کو ننگا کرنے کی حرمت جاتی رہی۔حرمت تو ویسی ہی قائم ہے لیکن مجبوری کی وجہ سے عورت کو ننگا کرنا جائز ہو گیا۔اسی طرح قتل بھی ایسی چیز ہے جو بوقت مجبوری جائز ہو جاتا ہے مثلاً لڑائی میں یا عدالت کے فیصلہ کے بعد لیکن اس کے باوجود نا پسندیدہ ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ملا نے کسی کو قتل نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں آدم کے دو بیٹوں کی مثال بیان کی ہے کہ ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے کی قربانی قبول نہ ہوئی۔جس کی قربانی قبول نہ ہوئی اس نے دوسرے سے کہا کہ میں تجھے مار ڈالوں گا۔جس کی قربانی قبول ہو گئی تھی ، اس نے کہا کہ تو بے شک مجھے قتل کر دے۔میں تجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ نہیں ، اٹھاؤں گا۔مفسرین نے اس تمثیل کے متعلق عجیب عجیب واقعات لکھے ہیں اور اس تمثیل کو آدم کے دو بیٹوں پر چسپاں کیا ہے۔۔حالانکہ اس کی تمثیل میں اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ملی ایم کی حالت بیان کی ہے۔دشمن لڑائی کے لئے مقابل پر آتے تھے اور آپ ان کو قتل کرنے پر قادر ہوتے تھے لیکن اس کے باوجود آپ نے کسی کو قتل نہیں کیا۔اصولی طور پر سارے کے سارے گناہ اپنی ذات میں برے ہوتے ہیں لیکن بعض حالات میں ان کی اجازت دی جاتی ہے۔مثلا قتل کرنا کتنا بڑا گناہ ہے مگر بعض حالات میں شریعت نے قتل کی اجازت دی ہے جیسے جہاد کا حکم ہے۔اگر جہاد میں کوئی شخص اپنے دشمن کو قتل کرتا ہے تو وہ گنہگار نہیں ہو تایا جیسے تو رات اور حدیث میں زانی کو رجم کرنے کا حکم ہے۔اگر مرد اور عورت شادی شدہ ہوں اور چار شہادتوں سے یہ ثابت ہو جائے کہ انہوں نے زنا کیا ہے تو ان کی سزا رجم ہے یعنی پتھر مار مار کر ان کو مار دینا چاہئے۔گو اس مسئلہ کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے لیکن اگر اختلاف کے پہلو کو چھوڑ دیا جائے تو بھی احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ بعض لوگوں کو رجم کی سزادی گئی تھی۔اب دیکھو قتل اپنی ذات میں کتنا بڑا گناہ ہے لیکن شریعت نے ان حالات میں قتل کی اجازت دی ہے گو یہ اجازت مجبوری کی حالت میں دی ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ لوگ ایک شخص کو پکڑ کر رسول کریم ملی کے پاس لائے کہ یا رسول اللہ ! اس شخص نے زنا کیا ہے۔گواہوں کی شہادت سے یہ بات ثابت ہو گئی۔آپ نے