مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 421

421 ایک حصہ ہیں، ان کو بھی کوئی پریذیڈنٹ بحیثیت جماعت حکم نہیں دے سکتا۔ہاں فرد افردا وہ انصار اللہ کے ہر ممبر کو اپنی مدد کے لئے بلا سکتا ہے۔انصار اللہ کا فرض ہے کہ وہ لوکل انجمن کے پریذیڈنٹ کے ساتھ پورے طور پر تعاون کریں۔بہر حال کوئی پریذیڈنٹ انصار اللہ کو بحیثیت انصار الله یا خدام الاحمدیہ کو بحیثیت خدام الاحمدیہ کسی کام کا حکم نہیں دے سکتا۔وہ یہ تو کہہ سکتا ہے کہ چونکہ تم احمدی ہو اس لئے آؤ اور فلاں کام کرو مگر وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ آؤ انصار یہ کام کردیا آؤ خدام یہ کام کرو۔خدام کو خدام کا زعیم مخاطب کر سکتا ہے اور انصار کو انصار کا زعیم مخاطب کر سکتا ہے۔مگر چونکہ لوکل انجمن ان دونوں پر مشتمل ہوتی ہے۔انصار بھی اس میں شامل ہوتے ہیں اور خدام بھی اس میں شامل ہوتے ہیں اس لئے گو وہ بحیثیت جماعت خدام اور انصار کو کوئی حکم نہ دے سکے مگر وہ ہر خادم اور انصار اللہ کے ممبر کو ایک احمدی کی حیثیت سے بلا سکتا ہے اور خدام اور انصار دونوں کا فرض ہے کہ اس کے احکام کی تعمیل کریں۔میں حیران ہوں کہ جہاں باقی مقامات پر آرام سے کام چل رہا ہے وہاں قادیان میں کیوں اختلاف پیدا ہو گیا۔یہاں تو علاوہ محلوں کی انجمنوں کے ایک لوکل انجمن بھی موجود ہے۔اگر دار البرکات کے انصار اپنے فرائض کو سمجھنے کے قابل نہیں تھے یا دار البرکات کے جو خدام ہیں ان میں سے بعض کے ساتھ وہ صلح اور محبت سے کام نہیں کر سکتے تو پریذیڈنٹ کا فرض تھا کہ وہ اس جھگڑے کو دور کرتا۔در حقیقت اگر ایسے مواقع پیش آجائیں تو اس وقت بہترین طریق یہ ہوتا ہے کہ پریذیڈنٹ جھگڑے کو نبٹانے کی کوشش کرے۔مثلا جب قادیان کے ایک محلہ میں جھگڑا پیدا ہو گیا تھا تو اس وقت لوکل انجمن کے پریز ڈینٹ کا فرض تھا کہ اس جھگڑے کو دور کرنے کی کوشش کرتا۔وہ مقامی پریذیڈنٹ کو بھی بلا تا۔انصار اور خدام کے زعماء کو بھی بلاتا اور پھر اگر ضرورت سمجھتا تو مرکز کو لکھ کر انصار اللہ اور خدام کا ایک ایک نمائندہ بلایا جاتا اور تحقیق کرکے فیصلہ کیا جاتا کہ قصور کس کا ہے۔مگر مجھے افسوس ہے کہ نہ قادیان کی لوکل انجمن نے اپنی ذمہ داری کو محسوس کیا نہ خدام نے اس جھگڑے کو دور کرنے کی ضرورت محسوس کی اور نہ انصار اللہ نے اس طرف کوئی توجہ کی۔خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ جماعت کے اتحاد کو مستحکم بنانے کے لئے ہیں نہ کہ اسے نقصان حالا نکہ یہ جھگڑے اگر اسی طرح بڑھتے چلے جائیں اور انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کا وجود جماعت پہنچانے کے لئے میں دو نئی جماعتیں پیدا کرنے کا موجب بن جائے تو یہ تنظیم بجائے انعام کے ہمارے لئے وبال بن جائے گی اور بجائے اتحاد کو ترقی دینے کے ہم میں تفرقہ اور تنزل پیدا کر دے گی۔خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کو دو علیحدہ علیحدہ وجود نہیں بنایا گیا بلکہ ایک کام اور ایک مقصد کے لئے ان کے سپرد دو علیحدہ علیحدہ فرائض کئے گئے ہیں اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے گھر میں سے کسی کے سپر د خدمت کا کوئی کام کر دیا جاتا ہے۔اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ اس کا کوئی مستقل وجود گھر میں پیدا ہو گیا ہے بلکہ وہ بھی جانتا ہے اور دوسرے لوگ بھی جانتے ہیں کہ وہ گھر کا ایک حصہ ہے۔کام کو عمدگی سے چلانے کے لئے اس کے سپرد کوئی ڈیوٹی کی گئی ہے۔اسی طرح خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ دونوں مقامی انجمن کے بازو ہیں اور ہر شخص کو خواہ وہ خدام الاحمدیہ میں شامل ہو یا انصار اللہ میں اپنے آپ کو محلہ کی یا اپنے شہر کی یا اپنے ضلع کی انجمن کا ایک فرد سمجھنا چاہئے اور بجائے اس کے ساتھ ٹکرانے کے صلح اور آشتی سے کام لینا چاہئے۔میں نے بتایا ہے کہ جب اس سم کا کوئی اختلاف ہو ، اس وقت پریذیڈنٹ پر اختلاف کو دور کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔اگر ضلع میں جھگڑا ہو تو