مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 30
30 اقرار کرے کہ میں آئندہ یہی سمجھو نگا۔کہ احمدیت کا ستون میں ہوں۔اور اگر میں ذرا بھی ہلا اور میرے قدم ڈگمگائے تو میں سمجھوں گا کہ احمدیت پر زد آ گئی۔حضرت طلحہ ایک بہت بڑے صحابی گزرے ہیں۔ان کا ایک ہاتھ لڑائی کے موقعہ پر شل حضرت طلحہ کا نمونہ ہو گیا تھا۔بعد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو جنگیں ہو ئیں ان میں کسی موقعہ پر ایک شخص نے طنز ا حضرت طلحہ کو لنجا کہہ دیا۔حضرت طلحہ نے کہا۔تمہیں پتہ بھی ہے میں کس طرح لنجا ہوا۔پھر انہوں نے بتایا کہ احد کے موقعہ پر جب رسول کریم ملی الم پر کفار نے حملہ کر دیا اور اسلامی لشکر پیچھے ہٹ گیا تو اس وقت کفار نے یہ سمجھتے ہوئے کہ صرف محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ذات ہی ایک ایسا مرکز ہے جس کی وجہ سے تمام مسلمان مجتمع ہیں ، آپ پر پتھر اور تیر برسانے شروع کر دیئے۔میں نے اس وقت دیکھا کہ اس بات کا خطرہ ہے کہ کہیں کوئی تیر رسول کریم ملی کے چہرہ مبارک پر آکر نہ لگے چنانچہ میں نے اپنا بازو رسول کریم ملی وی کے منہ کے آگے کر دیا۔کئی تیر آتے اور میرے بازو پر پڑتے مگر میں اسے ذرا بھی نہ ہلا تا۔یہاں تک کہ تیر پڑتے پڑے میرا بازو شل ہو گیا۔کسی نے پوچھا جب تیر پڑ رہے تھے تو اس وقت آپ کے منہ سے کبھی اف کی آواز بھی نکلتی تھی یا نہیں کیونکہ ایسے موقعہ پر انسان بے تاب ہو جاتا اور درد سے کانپ اٹھتا ہے۔انہوں نے کہا۔میں اف کس طرح کرتا۔جب انسان کے منہ سے اف نکلتی ہے تو وہ کانپ جاتا ہے۔پس میں ڈرتا تھا کہ اگر میں نے اف کی تو ممکن ہے میرا ہاتھ کانپ جائے اور کوئی تیر رسول کریم میں نا لیوں کو جاکر لگ جائے۔اس لئے میں نے اف بھی نہیں کی۔دیکھو کتنا عظیم الشان سبق اس واقعہ میں پنہاں ہے۔طلحہ جانتے تھے کہ آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی حفاظت میرا ہاتھ کر رہا ہے۔اگر میرے اس ہاتھ میں ذرا بھی حرکت ہوئی تو تیر نکل کر محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو جا لگے گا۔پس انہوں نے اپنے ہاتھ کو نہیں ہلایا۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس ہاتھ کے پیچھے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا چہرہ ہے۔اسی طرح اگر تم بھی اپنے اندر یہ احساس پیدا کر و۔اگر تم بھی یہ سمجھنے لگو کہ ہمارے پیچھے اسلام کا چہرہ ہے اور اسلام اور محمد میں ایک یا دو نہیں بلکہ ایک ہی ہیں۔تو تم بھی ایک مضبوط چٹان کی طرح قائم ہو جاؤ اور تم بھی ہر وہ تیر جو اسلام کی طرف پھینکا جاتا ہے اپنے ہاتھوں اور سینوں پر لینے کیلئے تیار ہو جاؤ۔پس یہ مت خیال کرو کہ تمہارے ممبر کم ہیں یا تم کمزور ہو۔خدام الاحمدیہ کے پیچھے اسلام کا چہرہ ہے بلکہ تم یہ سمجھو کہ ہم جو خادم احمد نیت میں جمارے پیچھے اسلام کا چہرہ ہے۔تب بے شک تم کو خدا تعالیٰ کی طرف ایسی طاقت ملے گی جس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکے گا۔میں تم اپنے عمل سے اپنے آپ کو مفید وجود بناؤ۔غریبوں اور مسکینوں کی مدد کرو۔نہ صرف اپنے مذہب کے غریبوں اور مسکینوں کی بلکہ ہر قوم کے غریبوں اور بے کسوں کی۔تادنیا کو معلوم ہو کہ احمدی اخلاق کتنے بلند ہوتے ہیں۔مشورہ دینے کے لحاظ سے میں ہر وقت تیار ہوں۔مگر میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم نمایاں شخصیتوں کو اپنا ممبر مت بناؤ۔کیونکہ بڑے درخت کے نیچے اگر آؤ گے تو تمہاری اپنی شاخیں سوکھ جائیں گی۔اسی طرح سچائی