مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 370
370 پانچ سال کے تفاوت سے ہی انسان خیال کرنے لگ جاتا ہے کہ مجھے اس بات کا حق حاصل ہے کہ دوسروں پر حکومت کروں۔مجھے حق حاصل ہے کہ میں دوسروں کو نصیحت کا سبق دوں اور ان کا فرض ہے کہ میری اطاعت کریں اور جو کچھ میں کہوں اس کے مطابق عمل مجالا ئیں۔پس ایسی صورت میں اگر کوئی نوجوان کسی بوڑھے کو نصیحت کرے گا تو یہ صاف بات ہے کہ بجائے نصیحت پر غور کرنے کے لئے اس کے دل میں غصہ پیدا ہو گا کہ یہ نوجوان مجھے نصیحت کرنے کا کیا حق رکھتا ہے۔اس طرح بجائے بات کو ماننے کے وہ اور بھی بگڑ جائے گا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض دفعہ ایک انسان ایک بچہ کے منہ سے بھی نصیحت کی بات سن کر سبق حاصل کر لیتا ہے مگر ایسا شاذو نادر کے طور پر ہوتا ہے اسی طرح بعض دفعہ ایک نوجوان کے منہ سے کوئی بات سن کر ایک بوڑھا بھی سبق حاصل کر سکتا ہے مگر ایسا بہت کم اتفاق ہوتا ہے۔عمر کے تفاوت کے ماتحت چاہے ایک بڑی عمر والا بے وقوف ہی کیوں نہ ہو وہ یہی سمجھتا ہے کہ میرا حق ہے کہ میری بات کو مانا جائے کیونکہ میں بڑی عمر کا ہوں دوسرے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ مجھے نصیحت کرے یا مجھے کسی نقص کی طرف اصلاح کی توجہ دلائے۔یہی حکمت ہے جس کے ماتحت میں نے انصار اللہ خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ تین الگ الگ جماعتیں قائم کی ہیں تاکہ نیک کاموں میں ایک دوسرے کی نقل کا مادہ جماعت میں زیادہ سے زیادہ پیدا ہو۔بچے بچوں کی نقل کریں۔نوجوان نوجوانوں کی نقل کریں اور بوڑھے بوڑھوں کی نقل کریں۔جب بچے اور نوجوان اور بوڑھے سب اپنی اپنی جگہ پر یہ دیکھیں گے کہ ہمارے ہم عمر دین کے متعلق رغبت رکھتے ہیں۔وہ اسلام کی اشاعت کی کوشش کرتے ہیں۔وہ اسلامی مسائل کو سیکھنے اور ان کو دنیا میں پھیلانے میں مشغول ہیں۔وہ نیک کاموں کی بجا آوری میں ایک دوسرے سے بڑھ کر حصہ لیتے ہیں تو ان کے دلوں میں شوق پیدا ہو گا کہ ہم بھی ان نیک کاموں میں حصہ لیں اور اپنے ہم عمروں میں نیکی کے کاموں میں آگے نکلنے کی کوشش کریں۔دوسرے وہ جو رقابت کی وجہ سے عام طور پر دلوں میں غصہ پیدا ہوتا ہے وہ بھی پیدا نہیں ہو گا۔جب بوڑھا بوڑھے کو نصیحت کرے گا۔نوجوان نوجوان کو نصیحت کرے گا اور بچہ بچے کو نصیحت کرے گا تو کسی کے دل میں یہ خیال پیدا نہیں ہو گا کہ مجھے کوئی ایسا شخص نصیحت کر رہا ہے جو عمر میں مجھ سے چھوٹا یا عمر میں مجھ سے بڑا ہے۔وہ سمجھے گا کہ میرا ایک ہم عمر جو میرے جیسے خیالات اور میرے جیسے جذبات اپنے اندر رکھتا ہے مجھے سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس وجہ سے اس کے دل پر نصیحت کا خاص طور پر اثر ہو گا اور وہ اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہو جائے گا۔مگر یہ تغیر اسی صورت میں پیدا ہو سکتا ہے جب جماعت میں یہ نظام پورے طور پر رائج ہو جائے اور کوئی بچہ کوئی نوجوان اور کوئی بوڑھا ایسانہ رہے جو اس نظام میں شامل نہ ہو۔اگر جماعت کے چند بوڑھے اس مقصد کے لئے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔اگر جماعت کے چند نوجوان اس