مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 366
کو نمازی بخش کوتاہ کو پھر درازی بخش خاکساروں کو سرفرازی بخش بخش اوا جیت لوں تیرے واسطے سب دل پانی کردے علوم قرآں کو ہائے جاں نوازی گاؤں گاؤں میں ایک رازی بخش روح فاقوں سے ہورہی ہے نڈھال ہم کو پھر نعمت حجازی بخش جھوٹ کو ناز مغرب ہے چاروں شانے پر مائل اپنے بندوں کو نیازی بخش بے نیازی چت کردین مومنوں کو وہ راستبازی بخش روح اقدام و دور مین نگاه پائے اقدس کو چوم لوں بڑھ کر مجھ کو تو ایسی پاکبازی سرگرانی میں عمر گزری ہے کفر کی کی چیره دستیوں کو بخش مروری اسلام سید الانبياء کی امت کو سرفرازی , نگاه بازی بخش قلب شیر بخش بخش ہوں جہاں گرد ہم میں پھر پیدا درازی بخش جو ہوں غازی بھی وہ نمازی بخش رسند باد اور پھر محمود محمود میرا مجھے کو تو سیرت ایازی بخش جہازی بخش ***