مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 28

28 طرح پیٹ پر ہاتھ پھیرا، ڈکار لیا اور سو رہے۔یہ ایک مرض ہے جس کے نتیجہ میں افراد کا ذہنی ارتقاء مارا جاتا ہے۔کیونکہ وہ ایک بڑے درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں اور بڑے درخت کے نیچے جو پودے لگے ہوئے ہوں وہ نشو و نما نہیں پاتے۔پھر اس کا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ جب کوئی اور تحریک کرتا ہے تو لوگ اس کی بات پر کان نہیں دھرتے اور وہ میرے پاس آتا ہے۔اور کہتا ہے کہ آپ اس امر کے متعلق تحریک کریں۔میں اس وقت دل میں ہنستا ہوں اور کہتا ہوں کہ یہ سزا ہے جو ان لوگوں کو اس لئے مل رہی ہے کہ انہوں نے لوگوں کو یہ عادت ڈان دی ہے کہ جب تک کوئی بات خلیفہ نہ کئے اس کا ماننا کوئی ایسا ضروری نہیں ہو تا۔حالانکہ دینی مشاغل اور قرآن کا درس و تدریس اور دوسرے ایسے ہی بیسیوں کام میں خلیفہ کے کہنے کی کیا ضرورت ہے۔یا کسی ناظر کے کہنے کی کیا ضرورت ہے۔ہر شخص کو اپنی اپنی جگہ دلی شوق سے یہ کام کرنے چاہئیں اور اگر وہ آجائیں۔تو سارا کام انہیں کا دماغ کر رہا ہو گا۔اور باقی لوگ خاموش بیٹھے رہیں گے۔اور اس کا نتیجہ قوم کے لئے مہلک ہو گا۔اس لئے قرآن کریم میں اللہ تعالٰی مومنوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔لا تسلُوا عَنْ اشْيَاء إِنْ تُبْدُ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ یعنی اے مومنو! تم بہت باتوں کے متعلق سوالات نہ کیا کرو۔کیونکہ اگر خدا ان باتوں کو بیان کرے گا تو تمہیں دکھ پہنچے گا۔اب سوال یہ ہے کہ کہ دکھ کیوں پہنچے گا۔کیا خدا کے احکام دکھ دینے والے ہوتے ہیں۔خدا کا تو ہر حکم انسان کے لئے باعث رحمت ہے۔پھر اس کا کیا مطلب ہے کہ اگر خدا نے ان باتوں کو بیان کیا تو تمہیں دکھ پہنچے گا۔بعض لوگ نادانی سے یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ اسکا مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے بار بار سوال کیا تو خدا ناراض ہو کر تمہیں کوئی سخت حکم دے دے گا۔یعنی جب مثلا یہ پوچھا کہ دو نمازیں پڑھنی چاہیں یا پانچ تو خدا کہے گا اچھا تم نے تو یہ پوچھا ہے میں بطور سزا تمہیں کہتا ہوں کہ تم چھ نمازیں پڑھا کرو مگر یہ بیوقوفی کی بات ہے۔خدا کو ئی تھکنے والا وجود نہیں کہ ایک دو سوالوں سے وہ نعوذ باللہ گھبرا جائے گا اور اکتا کر سخت حکم دینے شروع کر دے گا۔اس کا مطلب یہی ہے افراد جماعت کو اپنی عقلوں اور قوائے دماغیہ کو استعمال کرنے کی تلقین کہ اگر تم ہر بات مجھے سے دریافت کرو گے اور اپنی عقلوں پر زور نہیں ڈالو گے تو تمہارے قوائے دماغیہ کمزور اور بیکار ہو جائیں گے۔کیونکہ جس عضو سے ایک عرصہ تک کام نہ لیا جائے وہ بیکار ہو جاتا ہے۔ہاتھ سے کام نہ لیا جائے تو ہاتھ خشک ہو جاتا ہے۔دماغ سے کام نہ لیا جائے تو دماغ کمزور ہو جاتا ہے۔پس فرماتا ہے اگر تم ہم سے پوچھو گے تو گو ہم تمہیں وہ بات بتا دیں گے مگر پھر تم فقیہہ نہیں رہو گے۔بلکہ نقال بن جاؤ گے۔حالانکہ قوم کی ترقی کے لئے فقیہوں کا ہونا نہایت ضروری ہوتا ہے۔مگر وہ یہ بھی یاد رکھیں کہ کام تحریک جدید کے اصول پر کریں۔میں نے بارہا کہا ہے کہ الامام جنه يقاتل من ورائه تمہارا کام بے شک یہ ہے کہ تم دشمن سے لڑو۔مگر تمہارا فرض ہے کہ امام کے پیچھے ہو کر لڑو۔پس کوئی نیا پروگرام بنانا تمہارے لئے جائز نہیں۔پروگرام تحریک جدید کا ہی ہو گا اور تم تحریک جدید کے والٹیر ز ہو گے۔تمہارا فرض ہو گا کہ تم اپنے ہاتھ سے کام کرو۔تم سادہ زندگی بسر کرو۔تم دین کی تعلیم