مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 326
326 دوسرے قادیان کے محلوں میں سے بھی ایسے موقع پر ان کے صرف نمائندے ہی آنے چاہئیں تاکہ جب انتخاب ہو تو اس وقت ہجوم نہ ہو۔ہر محلے والے اپنے اپنے آدمی بھیج دیں اور ان کا فرض ہو کہ جب انتخاب کا وقت آئے تو وہ اکثریت کی رائے کو پیش کر دیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض دفعہ کچھ لوگوں کی رائے ایک طرف ہو سکتی ہے اور کچھ لوگوں کی رائے دوسری طرف ہو سکتی ہے اور اس طرح ان لوگوں کو جن کی رائے عام انتخاب کے موقع پر نہ پیش کی جائے گلہ اور شکوہ پیدا ہو سکتا ہے مگر بہر حال چونکہ عام طریق یہی ہے کہ اکثریت کی رائے کو پیش کیا جاتا ہے۔اس لئے جماعت کی رائے وہی سمجھی جائے گی جو اکثریت کی رائے ہوگی۔بے شک اکثریت کی رائے میں بھی نقص ہو سکتا ہے مگر بہر حال اس ناقص دنیا میں ناقص قوانین میں سے جو زیادہ بہتر ہو اسی کو اختیار کیا جائے گا۔پس قادیان سے بھی انتخاب کے موقع پر محدود آدمی شامل ہونے چاہئیں۔مثلا دار الرحمت والے ایک نمائندہ بھیج دیں۔دار الانوار والے ایک نمائندہ بھیج دیں۔اسی طرح باقی محلوں والے ایک ایک نمائندہ بھیج دیں مگر عام ریلی کے سلسلہ میں قادیان والوں کو لازماً حاضر ہو نا چاہئے اور جو باہر کی مجالس ہیں ان کے متعلق کوئی قانون مقرر کر لیا جائے۔مثلاً پچاس ممبروں پر وہ ایک نمائندہ بھیج دیں یا تھیں ممبروں پر ایک نمائندہ بھیج دیں بلکہ ہو سکتا ہے آئندہ بڑھتے بڑھتے ہمیں فی ہزار ایک پانی دس ہزار ایک نمائند ہ لینا پڑے۔مثلا لا ہو ر کسی وقت سارے کا سارا احمدی ہو جاتا ہے اور لاہور کی آبادی پانچ لاکھ ہے تو اس میں اگر تین لاکھ پندرہ سے چالیس سال عمر والے سمجھ لئے جائیں اور نصف تعداد عورتوں کی نکال دی جائے تو ڈیڑھ لاکھ آدمی رہ جائیں گے۔اب اگر ہم سو سو پر ایک نمائندہ لیں تو ڈیڑھ ہزار نمائندے بن جائیں گے اور اگر دس دس ہزار پر ایک نمائندہ لیں تو پند رہ نمائندے آئیں گے۔اسی طرح اگر کسی وقت لاہور میں خدام کی اتنی کثرت ہو جائے کہ ان کا کوئی ایک اجتماع نہ ہو سکے تو وہ ایسے مواقع پر مختلہ وار نمائندے بھیج سکتے ہیں۔مگر بہر حال ان کے ووٹ اسی قدر سمجھے جانے چاہئیں جس قدر ان کے حلقہ کی جماعت کی تعداد ہو۔پس ایک تو میں یہ ہدایت دیتا ہوں۔دوسرے ریلی کے متعلق میں نے بتایا ہے کہ اس میں قادیان کے سب لوگوں کو حاضر ہونا چاہئے مگر باہر سے صرف نمائندے بلائے جائیں۔ہاں اگر کوئی شخص اپنے شوق سے آنا چاہے تو اس کے لئے شامل ہونے کا دروازہ کھلا رکھنا چاہئے۔اب میں خدام الاحمدیہ کے کام کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔میں نے کل خدام الاحمدیہ کو کام کرتے دیکھا ہے اور مجھ پر یہ اثر ہے کہ اس دفعہ اصول کو مد نظر رکھ کر کام کیا گیا ہے۔چنانچہ جب مشاہدہ و معائنہ کا مقابلہ ہو رہا تھا تو میں نے دریافت کیا کہ تم کس طرح اس کے متعلق فیصلہ کرو گے۔اس پر انہوں نے بتایا کہ ہم نے خود مشاہدہ و معائنہ کر کے اس کے بعض پوائنٹ مقرر کئے ہوئے ہیں۔جن کو دیکھ کر ہم اس بارہ میں آسانی سے فیصلہ کر سکتے ہیں۔اسی طرح آواز کی بلندی کے مقابلہ میں ایک ترتیب سے نشان لگائے گئے ہیں اور اس میں تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھا گیا ہے۔آواز کی صفائی کا بھی لحاظ رکھا گیا تھا اور آواز کے دور تک پہنچنے کا بھی لحاظ رکھا گیا تھا۔گویا جو پہلو ضروری ہیں ان کو انہوں نے ملحوظ رکھا تھا۔ایک کمی ہے جو دور کی جانی چاہئے۔آئندہ ہر بڑی جماعت کو ہر عملی