مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 322
322 نہیں ہو سکتی۔پس جہاں میں تمہیں شعائر اللہ اور قومی شعائر کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے کی ہدایت کرتا ہوں اور تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ جب خدا اور اس کے دین کے لئے تمہیں بلایا جائے اس وقت تم اپنی جانوں کی اتنی قیمت بھی نہ سمجھو جتنی ایک مری ہوئی مکھی کی ہوتی ہے۔وہاں میں تمہیں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ کسی چیز کو خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں مت کھڑا کرو۔ہمارا خدا ایک خدا ہے اس کی قدرتوں میں کوئی شریک نہیں۔اس کی حکومت میں کوئی شریک نہیں۔اس کی عبادت میں کوئی شریک نہیں۔جو شخص کسی کو خدا تعالیٰ کا شریک قرار دیتا ہے چاہے شریک قرار دیا جانے والا خد اتعالیٰ کا نبی اور رسول ہی کیوں نہ ہو وہ راندہ درگاہ ہو جاتا ہے۔مگر جو تمام چیزوں کو اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے۔خدا کو خدا کی جگہ دیتا ہے۔رسول کو رسول کی جگہ دیتا ہے۔شعائر کو شعائر کی جگہ دیتا ہے۔وہی خدا تعالیٰ کے حضور عزت پاتا ہے۔اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی۔( خطبه جمعه فرموده ۲۳ اکتوبر ۱۹۴۲ء۔مطبوعہ الفضل ۳۱ اکتوبر ۱۹۴۲ء)