مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 319

319 قائم رہے گی۔جو شخص عثمان کے ایک مصرع کو ٹھیک کہنے پر ناراض ہو گیا تھا تم سمجھ سکتے ہو کہ جب اس کے دوسرے مصرع کو جھوٹ کہہ دیا گیا تو وہ کس قدر ناراض ہوا ہو گا۔اس نے شعر پڑھنے بند کر دیئے اور کہا میں اب کوئی شعر نہیں سناؤں گا۔اب مکہ شریفوں کی جگہ نہیں رہا اور یہاں کسی کی عزت محفوظ نہیں۔اس کا یہ کہنا تھا کہ لوگوں میں جوش پیدا ہو گیا اور سب عثمان بن مطعون کو مارنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور انہیں اتنامارا اتنا مارا کہ وہ لہولہان ہو گئے۔اسی دوران ایک شخص نے زور سے ان کی ایک آنکھ پر گھونسہ مارا جس سے ان کی آنکھ کا ڈیلا نکل کر باہر آگیا۔اس مجلس میں وہ رئیس بھی موجود تھا۔جو حضرت عثمان بن مطعون کے والد کا دوست تھا۔ایک طرف اس پر اپنی قوم کا رعب تھا اور دوسری طرف اس کے اپنے ایک پرانے دوست یعنی عثمان کے والد سے جو تعلقات تھے وہ اسے یاد آگئے اور اس نے خیال کیا کہ عثمان کا باپ اس سے کیسا حسن سلوک کیا کرتا تھا۔مگر آج اس کے بیٹے کی کیا حالت ہو رہی ہے۔اس شش و پنج کی حالت میں جیسے کسی کے نو کر بچے کو جب اس کے آقا کا کوئی لڑکا مارتا ہے تو ماں اپنے آقا کے لڑکے کو تو مار نہیں سکتی النا اپنے بچے کو مارتی ہے کہ تو وہاں کیوں گیا تھا اور در حقیقت وہ محبت کی مار ہوتی ہے۔اسی طرح ان کے باپ کا وہ دوست غصہ سے کھڑا ہو گیا اور اس نے کہا عثمان ! میں نے نہیں کہا تھا کہ تو میری پناہ میں سے نہ نکل۔اب تھا تو وہ غصہ مگر اس کا موجب در حقیقت وہ محبت تھی جو اسے اس کے باپ سے تھی۔مطلب یہ تھا کہ تو میری پناہ سے نکلا تو آج مجھے بھی یہ دیکھ دیکھنا پڑا کہ تیری ایک آنکھ نکل گئی۔حضرت عثمان نے آگے سے جواب دیا کہ چچا تم اس ایک آنکھ کا ذکر کرتے ہو میری تو اس راہ میں دوسری آنکھ بھی نکلنے کے لئے تیار ہے۔یہ وہ قربانیاں تھیں جو خدا تعالیٰ کے لئے انہوں نے کیں اور پھر دو سال کے اندر اندر ان کی تلواروں کے نیچے ان کے دشمنوں کی گردنیں آگئیں اور وہی سردار جو رسیاں باندھ باندھ کر انہیں گلیوں میں گھسیٹا کرتے تھے ایسے ذلیل ہو گئے کہ جس کی کوئی حد ہی نہیں۔آج لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے ظلم کئے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کفار نے ان سے سینکڑوں گنا زیادہ ان پر تختیاں کی تھیں۔وہ صحابہ جو غلام کہلاتے تھے ان کی ٹانگوں میں رسیاں باندھ باندھ کر انہیں گلیوں میں پتھروں پر گھسیٹا جا تا تھا اور انہیں اس قدر مارا اور پیٹا جا تا تھا کہ ان کا تمام جسم زخمی ہو جاتا تھا۔اس زمانہ میں مکہ میں کچے مکان زیادہ تھے اور پکے کم تھے اور جہاں کچے مکان زیادہ ہوں وہاں گلیوں میں پانی کی رو روکنے کے لئے ایک خاص قسم کے پتھر رکھ دیئے جاتے ہیں جنہیں پنجابی میں کھنگر کہتے ہیں۔قادیان میں بھی پہلے گلیوں میں اس قسم کے کھنگر ہوا کرتے تھے اور یہ کھنگر اس لئے رکھے جاتے ہیں تاکہ پانی سے مکانات کو نقصان نہ پہنچے۔ان پتھروں پر خالی بیٹھنا بھی مشکل ہو تا ہے مگر صحابہ کو ان پر گھسیٹا جاتا تھا اور اس طرح ان کو انتہاء درجہ کی تکلیف پہنچائی جاتی تھی۔ایک صحابی کہتے ہیں میں نے ایک دفعہ ایک دوسرے صحابی کی پیٹھ دیکھی تو مجھے ان کا چمڑا ایسا معلوم ہوا کہ گویا وہ آدمی کا چمڑا نہیں بلکہ کسی جانور کا چمڑا ہے۔میں نے ان سے کہا کہ کیا آپ کو یہ کوئی بیماری ہے۔وہ ہنس کر کہنے لگے یہ بیماری نہیں بلکہ ہمیں مکہ میں پتھروں پر گھسیٹا جاتا تھا جس کی وجہ سے پیٹھ کا چمڑا ایسا سخت ہو گیا۔مگر دیکھو پھر انہی غلام صحابہ کو خدا تعالیٰ نے کیسی