مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 316

316 بادشاہ سلامت! آپ بادشاہ ہو کر کیسی غیر معقول بات کر رہے ہیں۔ہمارے باپ دادا نے درخت لگائے اور ہم نے ان کے پھل کھائے۔اب ہم درخت لگائیں گے اور ہماری اولادیں ان کا پھل کھائیں گی۔اگر ہمارے باپ دادا قربانی نہ کرتے اور وہ بھی یہی کہتے کہ ہم کیوں درخت لگا ئیں۔ہم انہیں کیوں پانی دیں۔ہم کیوں ان کی نگہداشت کریں اور کیوں ان پر محنت کریں تو ہم ان درختوں کے پھل کہاں سے کھاتے۔اسی طرح ہم اگر اس خیال میں رہیں گے کہ ہم نے تو مر جانا ہے۔اب ہم نے درخت لگا کر کیا کرنا ہے تو ہماری اولادیں ان درختوں کا پھل کہاں سے کھائیں گی۔بادشاہ کو اس بڑھے کی یہ بات بہت ہی پسند آئی اور اس کے منہ سے بے اختیار نکلا کہ زہ یعنی تم نے کیا ہی اچھی بات کہی ہے اور بادشاہ نے یہ حکم دیا ہوا تھا کہ جب میں کسی کی بات سے خوش ہو کر زہ کہوں تو اسے فورا دو ہزار درہم انعام دے دیئے جایا کریں۔اس کے وزیر کے پاس ہمیشہ ایسی تھیلیاں رہتی تھیں۔جو نہی بادشاہ نے کہا زہ تو وزیر نے جھٹ دو ہزار درہم کی تھیلی اس بڑھے کے سامنے رکھ دی۔بڑھے کے ہاتھ میں جب روپیہ آیا تو وہ کہنے لگا بادشاہ سلامت ابھی آپ طعنے دے رہے تھے کہ تو نے اس درخت کا پھل تھوڑا کھانا ہے تو تو اس وقت تک مرجائے گا اور تیری اولادیں اس کا پھل کھائیں گی حالانکہ اگر میری اولادیں اس کا پھل کھاتیں تب بھی میں ہی اس کا پھل کھاتا۔مگر میں نے تو یہ درخت لگاتے لگاتے اس کا پھل کھالیا۔بادشاہ کے منہ سے پھر نکلا زہ یعنی کیا ہی اچھی بات کہی ہے اور وزیر نے جھٹ ایک دوسری تحصیلی دو ہزار درہم کی اس کے سامنے رکھ دی۔پھر بڑھا کہنے لگا دیکھئے بادشاہ سلامت آپ کیا اعتراض کرتے تھے۔لوگ تو درخت لگاتے ہیں اور کئی سال کے بعد جب اس کا پھل پیدا ہو تا ہے تو سال میں صرف ایک دفعہ اس کا پھل کھاتے ہیں مگر میں نے تو ایک گھنٹہ میں اس کا دو دفعہ پھل کھالیا۔بادشاہ کہنے لگازہ اور وزیر نے جھٹ ایک تیسری تحصیلی دو ہزار درہم کی اس کے سامنے رکھ دی۔پھر بادشاہ اپنے وزیر سے کہنے لگا چلو یہاں سے۔یہ بڑھا تو ہمیں لوٹ لے گا۔تو حق یہی ہے کہ قربانیاں ہی ہیں جو اچھا پھل لاتی ہیں۔یہ ہے تو ایک لطیفہ مگر حقیقت یہی ہے کہ قربانی کرنے والے وقت سے بہت پہلے اپنی قربانی کا پھل کھالیتے ہیں۔ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو تا کہ انہیں ان کی قربانی کا پھل ملنے والا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ جو عرش سے ان کی قربانیوں کو دیکھتا ہے ان کو ان کا پھل کھلا دیتا ہے۔مکہ میں جو لوگ قربانیاں کرتے رہے تھے کب ان کے و ہم اور گمان میں بھی یہ بات آسکتی تھی کہ عنقریب وہ اس کا پھل کھالیں گے۔وہ اسی نوے یا سو آدمیوں کی جماعت جو ہر روز لوگوں کے ظلموں کے نیچے دبی ہوئی تھی۔جنہیں پتھروں پر گھسیٹا جا تا تھا۔جنہیں کوڑے مارے جاتے تھے۔جن میں سے بعض کو قتل بھی کر دیا جاتا تھا اور جنہیں آخر اپنا گھر بار چھوڑ کر حبشہ کی طرف ہجرت کر کے جانا پڑا اب وہ اس بات کا قیاس بھی کر سکتے تھے کہ ہم لوگ اپنی زندگی میں اپنی ان قربانیوں کا پھل کھالیں گے۔لیکن یہ اسی نوے یا سو آدمیوں کی جماعت جسے تیرہ سال کفار نے ظلموں کا تختہ مشق بنائے رکھا، مدینہ میں ابھی دو سال نہیں گزرے تھے کہ اس کے ہاتھوں سے اس کی آنکھوں کے سامنے اس کا دشمن تہ تیغ ہو گیا اور جو روزانہ ان پر ظلم کرتے اور انہیں قسم قسم کے دکھ پہنچایا کرتے تھے ان کا نام و نشان تک مٹ گیا۔بدر کی جنگ میں جو کچھ ہوا۔مکہ