مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 315
315 نے بتایا کہ کہ یہ شاہی خاندان میں سے ہیں۔اگر وہ لوگ اپنی جانوں کی کوئی قیمت نہ سمجھتے تو یہ ذلت اور رسوائی کا دن دیکھنا انہیں کیوں نصیب ہو تا۔یہ تو اس بیگم کا فریب تھا کہ میں مرنے لگی ہوں لیکن اگر فرض کرو اگر وہ مرنے بھی لگتی اور کسی دوسری جگہ توپ رکھنے سے اس کی جان بچ سکتی تو اس کا فرض یہ تھا کہ وہ بادشاہ کو کہلوا بھیجتی کہ بادشاہ تم مجھے مرنے دو تاکہ قوم اور ملک زندہ ہو کیونکہ وہی قومیں دنیا میں زندگی پاتی ہیں جو اپنی جان کو حقیر سمجھتی ہیں۔جس قوم میں زندگی کی قیمت آگئی اس قوم کی زندگی کی کوئی قیمت نہیں رہتی۔مگر جو قوم موت کو معمولی بات سمجھتی ہے اس قوم کو ابدی حیات حاصل ہو جاتی ہے۔در حقیقت حیات موت کے گلے ملنے سے ہی میسر آتی ہے۔دنیا میں زندگی اور باعزت زندگی کا اور کوئی ذریعہ نہیں سوائے اس کے کہ انسان موت کو قبول کرلے۔جو لوگ موت قبول کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں ان کو اور ان کی اولادوں کو ہمیشہ کی زندگی حاصل ہو جاتی ہے۔مگر جو اپنے لئے اور اپنی اولادوں کے لئے زندگی تلاش کرتے پھرتے ہیں ان کے پیچھے پیچھے ہر وقت موت دوڑتی رہتی ہے۔دنیا میں اللہ تعالیٰ نے یہ عجیب قانون بنایا ہے کہ جن چیزوں کے پیچھے بھا گو وہ آگے آگے بھاگتی ہیں۔جو شخص زندگی کے پیچھے بھاگتا ہے زندگی اس کے آگے آگے بھاتی ہے اور موت اسے آکر پکڑ لیتی ہے اور جو شخص موت کے پیچھے بھاگتا ہے موت اس کے آگے آگے بھاگتی ہے اور زندگی اسے آکر پکڑ لیتی ہے۔جو قو میں مال اور دولت کے پیچھے بھاگتی ہیں دولت ان کے آگے آگے بھاگتی ہے اور جو لوگ اپنے مال اور دولت کو حقیر خیال کرنے لگ جاتے ہیں انہیں یہ دولت اتنی کثرت سے ملتی ہے کہ ان کے پیچھے پیچھے بھاگی پھرتی ہے۔زمیندار ہر سال غلہ اپنے گھر سے نکالتا اور زمین میں جاکر پھینک آتا ہے۔اس کا اپنے گھر سے غلہ نکال کر زمین میں ڈال آنا آخر کیا ہوتا ہے۔اس غلے کو بظا ہر ضائع اور تباہ کرنا ہی ہو تا ہے مگر پھر وہی غلہ اس کے پیچھے پیچھے دوڑتا چلا آتا ہے۔اگر وہ اس غلے کو بچا کر رکھے تو کیا تم سمجھ سکتے ہو کہ اسے اتنی کثرت سے غلہ مل سکتا ہے۔اگر وہ کہے کہ میں اپنے دانوں کو کیوں زمین میں ڈالوں۔معلوم نہیں اگلے سال غلہ پیدا ہو یا نہ ہو یا کیا پتہ وہ سیلاب سے خراب ہو جائے یا پرندے آئیں اور اسے چن چن کر کھا جائیں اور اس طرح غلے کو اپنے گھر میں سنبھال کر رکھ لے تو اس کے گھر میں آئندہ سال کبھی غلہ نہیں آئے گا۔ہاں جو زمیندار کھیتوں میں اپنے غلہ کو پھینک دے گا اور اس کے ضائع ہونے کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا اس کے گھر کثرت سے غلہ آجائے گا۔تو وہی تو میں دنیا میں عزت حاصل کیا کرتی ہیں جو اپنی عزت کو قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتی ہیں اور وہی تو میں دنیا میں زندگی حاصل کیا کرتی ہیں جو اپنی زندگی کو قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتی ہیں۔قربانی کے بغیر دنیا میں عزت اور نیک نامی حاصل کرنے کا اور کوئی طریق نہیں۔کہتے ہیں پرانے زمانے میں ایک بادشاہ تھا۔وہ ایک دفعہ کہیں جارہا تھا کہ اس نے راستہ میں دیکھا ایک بڑھا ایک درخت لگا رہا ہے مگر وہ درخت ایسا تھا جو بیسیوں سال کے بعد پھل دیتا تھا۔بادشاہ اسے دیکھ کر کہنے لگا بڑھے تمہاری عقل ماری گئی ہے۔تم اسی نوے سال کے ہو گئے ہو۔اگر تم اس سال نہ مرے تو اگلے سال مرجاؤ گے۔مگر تم درخت وہ لگا ر ہے ہو جو ہمیں پچیس سال کے بعد پھل دیتا ہے۔یہ تم کیا کر رہے ہو۔بڑھے نے کہا