مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 311

311 یہ بڑا بے حیاء اور بے شرم ہے ، باپ نیچے بیٹھا ہوا ہے اور بیٹا اوپر بیٹھ گیا ہے حالانکہ عملی طور پر اس نے اپنے باپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا ہو تا۔باپ اگر نیچے بیٹھا ہوتا ہے تو اپنی مرضی سے بیٹھا ہو تا ہے اور بیٹا اگر اوپر بیٹھ رہتا ہے تو اس لئے بیٹھتا ہے کہ اسے اوپر بیٹھنے سے آرام حاصل ہوتا ہے مگر تصویری زبان میں چونکہ اوپر اور نیچے کے معنے عزت اور ذلت یا اعلیٰ اور ادنی کے سمجھے جاتے ہیں اس لئے باوجود اس کے کہ بیٹے کے اوپر بیٹھنے سے باپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا وہ اگر اوپر بیٹھ جاتا ہے تو سب لوگ اسے برا سمجھتے ہیں اس لئے کہ تصویری زبان میں اوپر اور نیچے کا مفہوم اعلیٰ اور ادنی کے معنوں میں سمجھا جاتا ہے اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے اپنے عمل سے اس امر کا اظہار کیا ہے کہ میں اعلیٰ ہوں اور میرا باپ ادنی ہے یا میں بڑا ہوں اور میرا باپ چھوٹا ہے۔اسی تصویر کی زبان کے لحاظ سے جب کسی بیت الذکر کو گرایا جاتا ہے تو یہ نہیں سمجھا جاتا کہ چند اینٹوں کو گرا دیا گیا ہے بلکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ بیت الذکر پر حملہ کر کے خدا تعالیٰ کی عبادت کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔میں نے ابھی جھنڈے کی مثال دی تھی اور میں نے بتایا تھا کہ قوموں میں جھنڈے کا بڑا ادب اور احترام کیا جاتا ہے۔بعض دفعہ دشمن سے اس کا جھنڈا چھینے کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کی جاتی ہیں اور بعض دفعہ اپنا جھنڈا بچانے کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کی جاتی ہیں اور یہ شرک نہیں ہو تا بلکہ جیسے باپ کے سامنے اس کے بیٹے کا اوپر بیٹھنا سب لوگ ناجائز سمجھتے ہیں اس لئے کہ اس طرح تمثیلی زبان میں باپ کی ہتک ہوتی ہے۔اسی طرح تمثیلی زبان میں چونکہ قوم کا جھنڈا چھینے جانے کے معنے اس کی عزت و آبرو کے خاک میں مل جانے کے ہیں اس لئے تو میں اپنی جانیں قربان کر دیتی ہیں مگر یہ برداشت نہیں کر سکتیں کہ ان کا جھنڈا دشمن کے قبضہ میں چلا جائے۔فرانس کا ایک مشہور واقعہ ہے اس جنگ میں نہیں بلکہ اس سے پہلے کی ایک جنگ میں ایک دفعہ جرمن والوں نے فتح پائی اور فرانس کی حکومت نے جرمنی سے صلح کرلی۔صلح کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ جو فوج آگے لڑ رہی ہے اس کا جھنڈا جرمنوں کے حوالے کر دیا جائے۔جس وقت یہ اطلاع اس فوج کو پہنچی وہ آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے اور انہوں نے کہا ہم یہ نہیں کر سکتے کہ اپنا جھنڈا دشمنوں کے حوالے کر دیں۔صلح کرنی اور بات ہے لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ اپنا جھنڈا اپنے ہاتھ سے دشمن کے حوالے کر دیا جائے۔افسروں نے کہا ہم اس بارہ میں کیا کر سکتے ہیں۔یہ ہماری حکومت کا فیصلہ ہے اور اب لازماً ہمیں لڑائی چھوڑنی پڑے گی مگر اس بات میں ہم بھی تم سے متفق ہیں کہ اپنا جھنڈا دشمن کو دے دینا ایسی ذلت ہے جس سے بڑی اور کوئی ذلت نہیں۔مگر طے شدہ شرائط میں سے کسی شرط کو تو ڑ دینے کے یہ معنی تھے کہ پھر لڑائی مول لے لی جائے اور یا پھر دشمن کی طرف سے کوئی بھاری سزا قبول کی جائے۔چنانچہ وہ سب حیران تھے کہ کیا کریں۔اتنے میں ایک کرنیل اٹھا۔اس نے اپنے جھنڈے کو اتارا اور قریب ہی کھانا پکانے کے لئے آگ جل رہی تھی اس میں وہ جھنڈا اس نے ڈال دیا اور پھر آگ میں جھنڈا ڈالنے کے بعد چیچنیں مار کر رونے لگ گیا۔جھنڈا جلانے کے معنے یہ تھے کہ ہم نے اپنی قوم کا جھنڈا دشمن کے ہاتھ میں نہیں جانے دیا اور اس کے رونے کے یہ معنی تھے کہ مجھے اپنے ہاتھ سے اپنی قوم کا جھنڈا تلف کرنا پڑا۔