مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 310
310 پھر بعض قوموں نے تو اس قدر غلو کیا ہے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی توحید کو بھی اس پر قربان کر دیا ہے۔مثلاً ہندوستان میں ہی قومی جھنڈ الہرایا جاتا اور پھر اسے سلام کیا جاتا اور اس کے آگے جھکا جاتا ہے حالانکہ سلام جاندار چیزوں کو کیا جاتا ہے۔چنانچہ بعض دفعہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں اختلاف کا ایک موجب یہ بات بھی ہو جاتی ہے۔مسلمانوں میں سے جو موحد ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم جھنڈے کو سلام کرنے کے لئے تیار نہیں۔اس پر ہندو ناراض ہوتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ان کے دلوں میں اپنی قوم کی محبت نہیں۔حالانکہ مومن اسی حد تک اپنے تعلقات رکھ سکتا ہے جس حد تک خدا تعالیٰ نے ان تعلقات کے رکھنے کا حکم دیا ہے۔وہ ملک کی خاطر یا قوم کی خاطر خد اتعالیٰ کی مقرر کردہ حدود سے باہر نہیں جاسکتا۔غرض جھنڈے کو سلام کرنے کی غرض انہوں نے یہی رکھی ہے کہ لوگ اس سے وہ انتہا درجہ کی محبت کریں جو محبت وہ اپنے مذہب سے کرتے ہیں اور اس کے لئے انہوں نے اپنی ہمسایہ قوم سے لڑائی کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا کیونکہ وہ چاہتے ہیں چاہے مسلمانوں سے لڑائی ہو جائے جھنڈے کا سلام ضرور قائم کر دیا جائے۔یورپین قوموں میں یہ رواج پایا جاتا ہے کہ وہ جھنڈے کو دیکھ کر اپنا سر ننگا کر دیتے ہیں اور بعض لوگ جھنڈے کے آگے جھک جاتے ہیں حالانکہ سوائے خدا کے اور کسی کے آگے اعزازی جھکنا جائز نہیں۔یہ سب باتیں مشرکانہ ہیں اور ایک مسلم ان میں سے کوئی بات بھی اختیار نہیں کر سکتا۔مگر باوجود اس کے ہم اس امر سے انکار نہیں کر سکتے کہ تمثیلی زبان بہت بڑی اہمیت رکھنے والی چیز ہے اور تمثیلی زبان میں جن چیزوں کو عزت کا موجب سمجھا جائے ان کی حفاظت کرنامذہب کے خلاف نہیں بلکہ مذہب کا ہی حصہ ہے۔اب ایک بیت الذکر کی اینٹیں ویسی ہی ہوتی ہیں جیسے کسی اور مکان میں اینٹیں لگی ہوئی ہوتی ہیں۔ایک ہی بھٹے سے وہ اینٹیں آتی ہیں۔ایک ہی آگ سے وہ پکی ہوئی ہوتی ہیں۔ایک ہی چمپنی نے ان کی دود کشی کی ہوئی ہوتی ہے۔ایک ہی مستری نے وہ اینٹیں پتھوائی ہوتی ہیں جو بعض دفعہ ایک چوڑھا چمار بھی ہو سکتا ہے۔پھر انہی اینٹوں سے ایک سکھ کا مکان بنتا ہے۔ایک ہندو کا مکان بنتا ہے۔ایک عیسائی کا مکان بنتا ہے۔ایک مسلمان کا مکان بنتا ہے مگر کسی مکان کو کوئی خاص عظمت حاصل نہیں ہوتی لیکن انہی اینٹوں سے بنی ہوئی بیت الذکر کے لئے مسلمان اپنی جانیں دینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔اس لئے کہ بیت الذکر تصویری زبان میں خدا تعالیٰ کی عبادت کا نشان ہوتی ہے۔حالانکہ ایک چوڑھے یا جمار نے وہ اینٹیں پاتھی ہوتی ہیں۔ایک ہی قسم کا کوئلہ ان پر خرچ ہوا ہو تا ہے۔ایک ہی قسم کے آدمیوں نے جو بعض اوقات شرابی اور بد کار بھی ہو سکتے ہیں ان کو تیار کرنے میں حصہ لیا ہوتا ہے۔مگر جب وہ اینٹیں بیت الذکر کو جاکر لگتی ہیں تو ان کو خاص عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جانے لگتا ہے۔اس لئے نہیں کہ وہ اینٹیں اپنی ذات میں قابل عزت ہیں بلکہ اس لئے کہ ان اینٹوں سے بیت الذکر بنتی ہے اور ان اینٹوں کے گرانے کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ بیت الذکر گرائی جاتی ہے اور بیت الذکر کے گرانے کے یہ معنے سمجھے جاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی عبادت کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔اسی طرح کسی بزرگ کے سامنے کوئی شخص اگر اس سے اونچی جگہ پر آکر بیٹھ رہے تو سب لوگ اسے بے ادب اور گستاخ کہنے لگ جائیں گے یا باپ تو نیچے بیٹھا ہو اور بیٹا اوپر بیٹھ رہے تو سب لوگ کہیں گے