مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 21
21 فويل للمينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلاتِهِمْ سَاهُونَ الذِينَ هُمُ رابونَ (الماعون آیت ۵ تا ۷) لِلْمُصَلِينَ ریا ہی ریا ان میں ہوتی ہے۔کام کرنے کا شوق ان میں نہیں ہو تا۔تو میں نے انہیں نصیحت کی ہے کہ ایسے لوگوں کو اپنے اندر مت شامل کریں جو کام کرنے کیلئے تیار نہ ہوں بلکہ انہی کو اپنے اندر شامل کریں جو یہ اقرار کریں کہ وہ بے قاعدگی کے ساتھ نہیں بلکہ با قاعدگی کے ساتھ کام کیا کریں گے۔بے قاعدگی کے ساتھ کام میں کبھی برکت نہیں ہوتی۔اگر تھوڑا کام کیا جائے لیکن مسلسل کیا جائے تو وہ اس کام سے زیادہ بہتر ہو تا ہے جو زیادہ کیا جائے لیکن تو اتر اور تسلسل کے ساتھ نہ کیا جائے۔میں چاہتا ہوں کہ باہر کی جماعتیں بھی اپنی اپنی جگہ خدام الاحمدیہ نام کی مجالس قائم کریں۔یہ ایسا ہی نام ہے جیسے لجنہ اماءاللہ الجنہ اماءاللہ کے معنی ہیں۔اللہ کی لونڈیاں۔اور خدام الاحمدیہ سے مراد بھی یہی ہے کہ احمدیت کے خادم۔یہ نام انہیں یہ بات بھی ہمیشہ یاد دلاتا رہے گا کہ وہ خادم ہیں ، مخدوم نہیں۔یہ جو بعض لوگوں کے دلوں میں خیال پایا جاتا ہے کہ کاش ہم کسی طرح لیڈر بن جائیں یہ بیہودہ خیال ہوتا ہے۔لیڈر بنانا خدا کا کام ہے اور جس کو خدا لیڈر بنانا چاہتا ہے اسے پکڑ کر بنا دیتا ہے۔" لیڈر بنا ناخدا کا کام ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتب میں تحریر فرمایا ہے کہ میں پوشیدگی کے حجرہ میں تھا اور کوئی مجھے نہیں جانتا تھا اور نہ مجھے یہ خواہش تھی کہ کوئی مجھے شناخت کرے۔اس نے گوشہ تنہائی سے مجھے جبرا نکالا۔میں نے چاہا کہ میں پوشیدہ رہوں نہ اور پوشیدہ مروں۔مگر اس نے کہا کہ میں تجھے تمام دنیا میں عزت کے ساتھ شہرت دوں گا۔" (حقیقته الوحی صفحه ۱۴۹) پھر حضرت خلیفتہ المسیح الاول کو ہم نے دیکھا ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی مثال۔انکسار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں آپ ہمیشہ پیچھے ہٹ کر بیٹھا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آپ پر نظر پڑتی تو آپ فرماتے مولوی صاحب آگے آئیں اور آپ ذرا کھسک کر آگے ہو جاتے۔پھر دیکھتے تو فرماتے مولوی صاحب اور آگے آئیں۔اور پھر آپ ذرا اور آگے آجاتے۔خود میرا بھی یہی حال تھا۔جب حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی وفات کا وقت قریب آیا۔اس وقت میں نے یہ دیکھ کر کہ خلافت کے لئے بعض لوگ میرا نام لیتے ہیں اور بعض اس کے خلاف ہیں یہ ارادہ کر لیا تھا کہ قادیان چھوڑ کر چلا جاؤں۔تاجو فیصلہ ہونا ہو میرے بعد ہو۔مگر حالات ایسے پیدا ہو گئے کہ میں نہ جاسکا۔پھر جب حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی وفات ہو گئی تو اس وقت میں نے اپنے دوستوں کو اس بات پر تیار کر لیا کہ اگر اس بات پر اختلاف ہو کہ خلیفہ کسی جماعت میں سے ہو تو ہم ان لوگوں میں سے (جواب غیر مبائع ہیں) کسی کے ہاتھ پر بیعت کرلیں۔اور پھر میرے اصرار پر میرے تمام رشتہ داروں نے فیصلہ کیا کہ اگر وہ اس امر کو تسلیم کر لیں تو اول تو عام رائے لی جائے۔اور اگر اس سے وہ اختلاف کریں تو کسی ایسے آدمی پر اتفاق کر لیا جائے جو دونوں فریق کے نزدیک بے تعلق ہو۔اور اگر وہ یہ بھی قبول نہ کریں تو ان لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر