مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 281
281 جانوروں کو بھی اس طرح نہیں مارا جاتا۔جس طرح عورتوں کو مارا جاتا ہے اور عورتوں کے ساتھ ان کے اس سلوک کا یہ نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عورتوں کی پوزیشن دے دی ہے۔جب عورت کی عزت نہ کی جائے تو اولاد کے دل میں بھی خساست پیدا ہوتی ہے۔باپ خواہ سید ہو لیکن اگر اس کی ماں کی عزت نہ ہو تو وہ اپنے آپ کو انسان کا بچہ نہیں بلکہ ایک انسان اور حیوان کا بچہ سمجھتا ہے۔اور اس طرح وہ بزدل بھی ہو جاتا ہے۔پس عورتوں کی عزت قائم کرو۔اس کا نتیجہ یہ بھی ہو گا کہ تمہارے بچے اگر گیدڑ ہیں تو وہ شیر ہو جائیں گے۔یومِنُونَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیكَ کے بعد ایمان بِمَا اُنْزِلَ مِن قَبلِكَ کا حکم ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ دوسروں کے بزرگوں کا جائز ادب اور احترام کرو۔گویا اس میں صلح کی تعلیم دی گئی ہے۔پھر اس میں یہ بھی تعلیم ہے کہ تبلیغ میں نرمی اور سچائی کا طریق اختیار کرو۔آخری چیز یقین بالا خرت ہے۔اس کے معنے دو ہیں۔ایک تو مرنے کے بعد زندگی کا یقین ہے۔آخری چیز بعض دفعہ انسان کو قربانیاں کرنی پڑتی ہیں مگر ایمان بالغیب کی طرف اس کا ذہن نہیں جاتا۔اس وقت اس بات سے ہی اس کی ہمت بندھتی ہے کہ میری اس قربانی کا نتیجہ اگلے جہان میں نکلے گا۔پھر اس کے یہ معنے بھی ہیں کہ انسان ایمان رکھے کہ خدا تعالیٰ مجھے پر بھی اسی طرح کلام نازل کر سکتا ہے جس طرح اس نے پہلوں پر کیا۔اس کے بغیر اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت پیدا نہیں ہو سکتی۔خد اتعالیٰ سے محبت وہی شخص کر سکتا ہے جو یہ سمجھے کہ خدا تعالیٰ میری محبت کا صلہ مجھے ضرور دے سکتا ہے۔جس کے دل میں یہ ایمان نہ ہو وہ خدا تعالیٰ سے محبت نہیں کر ، پس یہ چھ کام ہیں جو انصار اللہ خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماءاللہ کے ذمہ ہیں۔ان کو چاہئے کہ پوری کوشش کر کے جماعت کے اندر ان امور کو رائج کریں تاکہ ان کا ایمان صرف رسمی ایمان نہ رہے بلکہ حقیقی ایمان ہو جو انہیں اللہ تعالیٰ کا مقرب بنا دے اور وہ غرض پوری ہو جس کے لئے میں نے اس تنظیم کی بنیاد رکھی ہے۔" ( تقریر فرموده ۲۷ دسمبر ۱۹۴۷ء مطبوعه الفضل ۲۶اکتوبر ۱۹۶۰ء)