مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 253

253 چلا گیا اور وہاں چاروں طرف لڑکے مقرر کر دیئے کہ کسی کو بھاگنے نہیں دینا۔جب لڑکوں نے ہمیں دیکھا تو انہوں نے ادھر ادھر بھاگنا چاہا۔مگر چاروں طرف آدمی کھڑے تھے۔آخر وہ اسی طرف آئے جس طرف میں کھڑا تھا اور کشتی کو کنارے پر لگاتے ہی سب بھاگ کھڑے ہوئے۔اور تو نکل گئے لیکن ایک قصاب کالڑ کا میں نے پکڑ لیا اور گو وہ مجھ سے بہت مضبوط تھا اور اس کا جسم بھی ورزشی تھا مگر میں جانتا تھا کہ وہ میرا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔کچھ اس میں فطرت کی اس کمزوری کا بھی دخل تھا کہ میں سمجھتا تھا کہ یہ لوگ ہم پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتے کیونکہ ہم یہاں کے مالک ہیں۔غرض بچپن کی جو نا عقلی ہوتی ہے کہ انسان اپنے رعب سے بعض دفعہ ناجائز فائدہ اٹھا لیتا ہے۔اس کے مطابق میں نے بھی زور سے ہاتھ اٹھا کر اسے مارنا چاہا۔اس نے پہلے تو اپنا مونسہ بچانے کے لئے ہاتھ اٹھایا جس پر مجھے اور زیادہ طیش آیا اور میں نے زیادہ سختی سے اسے تھپڑ مارنا چاہا مگر ابھی اسے تھپڑ نہیں مارا گیا تھا کہ اس نے اپنا مونہہ میرے سامنے کر دیا اور کہنے لگالوجی مار لو۔اس پر یکدم میرا ہاتھ نیچے گر گیا اور میں شرمندہ ہوا کہ فتح آخر اس کی ہوئی حالانکہ جسمانی لحاظ سے وہ گو مجھ سے طاقتور تھا۔مگر رعب کے لحاظ سے وہ مجھ سے کمزور تھا۔لیکن چونکہ اس نے مقابلہ سے انکار کیا اور کہا کہ مار لو تو میری انسانیت نے مجھے کہا۔اب اگر تو نے اسے مارا تو تو انسان کہلانے کا مستحق نہیں رہے گا۔لیکن اگر وہ تندرست اور زبر دست نوجوان ہونے کی بجائے ایک چھوٹا سا بچہ ہو تا۔اس کی پیٹھ میں خم ہو تا۔اس کے سینہ میں گڑھا پڑا ہوا ہوتا۔اس کی گردن دبلی پتلی ہوتی۔اس کی ناک سے رال بہہ رہی ہوتی اور وہ کہتا مار لو تو مجھ پر کچھ بھی اثر نہ ہوتا۔کیونکہ میں جانتا کہ اس میں مقابلہ کی طاقت ہی نہیں۔پس میں نے اگر جسمانی ورزش کی ہدایت دی ہے تو اس لئے کہ تمہاری قربانی دنیا کو سچی معلوم ہو۔یہ نہ ہو کہ تم ماریں بھی کھاؤ اور قربانی بھی بچی معلوم نہ ہو۔وہ مارلوگوں کے لئے ہدایت کا موجب بنتی ہے جو طاقت رکھتے ہوئے کھائی جائے۔مگر جو مار بزدلی کی وجہ سے کھائی جائے اس سے حقارت اور نفرت بڑھتی ہے۔جب لوگ یہ سمجھیں کہ وہ ایک تھپڑ مار میں تو دوسرا دو تھپڑ مار سکتا ہے۔وہ اگر ایک گال پر خراش پیدا کریں تو دوسرا ان کے دانت نکال سکتا ہے۔وہ اگر کھوپڑی پر چوٹ لگا ئیں تو دوسرا ان کے سر پھوڑ سکتا ہے۔تو اگر ایسی طاقت رکھنے والا انسان ایک کمزور انسان سے کہے کہ میں تم سے مار کھا لیتا ہوں تو دوسرے انسان کے دل پر ضرور چوٹ پڑتی ہے۔اور سمجھتا ہے کہ کوئی ایسی طاقت ہے جس نے اسے اتنی بڑی قربانی کرنے پر آمادہ کر دیا اور وہ سچائی کو قبول کر لیتا ہے۔محمد رسول اللہ ملی کو دیکھو۔آپ نے مکہ میں صبر کیا اور ایسا صبر کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔مگر لوگ کہہ سکتے تھے کہ نعوذ باللہ بزدل ہے اس لئے لڑائی سے کنارہ کرتا ہے۔مگر پھر اللہ تعالٰی آپ کو مدینہ میں لے گیا اور وہاں فوجوں کی کمان آپ کو کرنی پڑی اور ایسے ایسے مواقع آئے جن میں آپ کو اپنی بہادری کے جوہر دکھانے پڑے۔احد کے موقعہ پر ہی ایک شخص جو مکہ کا بہت بڑا جرنیل تھا، آگے آیا اور اس نے کہا کہ میں نے قسم کھائی ہے کہ میں محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) کو اپنے ہاتھ سے قتل کروں گا۔اس لئے میرے مقابلہ میں محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) کو ہی نکالا جائے۔صحابہ